اللہ کے گھر جانے کا موقع حج کی صورت میں ملے یا پھر عمرے کی شکل میں، مسلمانوں کے لیے دونوں ہی باعثِ فخر ہیں۔ چلتا پھرتا انسان طواف بھی بناء کسی کی مدد کے خود ہی کرلیتا ہے اور مکہ و مدینہ کی زیارتیں بھی کرلیتا ہے لیکن جو شخص معذور ہو، وہ کسی سہارے کے بناء اللہ کے گھر کی زیارت نہیں کر پاتا، نہ حج مکمل کر پاتا اور نہ عمرہ کیونکہ چلنے پھرنے اور عبادت کرنے کے لیے بھی کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انڈونیشیا کے ایک شخص کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا وہ اپنی والدہ کے ساتھ عمرے کی ادائیگی کے لیے گیا لیکن والدہ چونکہ معذور ہیں وہ اپنی مدد آپ کے تحت چل پھر نہیں سکتیں لہٰذا بیٹے نے والدہ کو کندھوں پر اٹھایا اور عمرے کی ادائیگی کی۔ خوبصورت دل چھو لینے والی ویڈیو: