آج جب ہم کوئی خوبصورت یا انوکھی چیز دیکھتے ہیں تو فوراً موبائل نکال کر اس کی تصویر بنا لیتے ہیں لیکن یہ عادت کبھی کبھی کتنا نقصان دے سکتی ہے اس بارے میں لوگ جان کر بھی انجان بن جاتے ہیں۔
بھارت کی ریاست اڑیسہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے کھیت کے مالک لکشمی نارائن کے پاس دنیا کے نایاب ترین سرخی مائل آم پائے جاتے ہیں۔ لکشمی نارائن کے کھیت میں 38 سے زائد آموں کی قسمیں پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ ڈھائی لاکھ روپے کلو بکتے تھے
لیکن لکشمی نارائن نے جب اپنے آموں کی اہمیت جانی تو ان کی تصویر کھئنچ کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جس کے صرف ایک دن بعد ہی 4 قیمتی آم چوری ہوگئے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں سوش میڈیا لوگوں کو فادہ پہنچاتا ہے وہیں اب اس کی وجہ سے کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔