انسان کے پاس جتنی بھی دولت ہو لیکن ساتھ لے کر وہ اپنے اعمال ہی جاتا ہے۔ پاکستان کے معروف بزنس مین شہزادہ داؤد کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ گزشتہ ہفتے ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے جانے والے شہزادہ داؤد یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ اگرچہ سمندر میں جاتی ان کی آبدوز کچھ دیر بعد ہی حادثے کاشکار ہوگئی تھی جس میں شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سمیت باقی 3 افراد بھی خالق حقیقی سے جا ملے تھے البتہ اس بات کی تصدیق کل آبدوز کا ملبہ ملنے کے بعد کی گئی۔
شہزادہ داؤد پاکستان کے گنے چنے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک کے چشم و چراغ تھے جو کھاد بنانے والی اینگرو کمپنی کے بورڈ آف چئیر مین تھے۔ مشہور کاروباری شخصیت ہونے کے علاوہ شہزادہ داؤد فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
ان کے قابل قدر کارناموں میں کراچی میں قائم کردہ ایس آئی یو ٹی کی تعمیر اور ترقی شامل ہے جہاں لاکھوں گردے کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ ہر سال فنڈ دینے کی وجہ سے اس ادارے میں غریب مریضوں کو مفت اور معیاری سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔
اس کے علاوہ الشفاء آئی ہسپتال کی تعمیر میں سندھ کے سابق گورنر جنرل (ر) جہانداد خان کے ساتھ مل کر کام کیا۔
واضح رہے کہ شاہزادہ داؤد تخلیقی ذہن اور جستجو کا شوق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے اپنے بیٹے کے ساتھ ٹائی ٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لئے بدقسمت آبدوز میں سوار ہوئے اور بدترین حادثے کا شکار ہوگئے البتہ انھیں ان کے نیک کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔