لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ! اللہ نے اپنے گھر بُلا ہی لیا ۔۔ مسجد نبوی ﷺ سے مشہور ہونے والے بابا حج کیلیے روانہ، کون کون ان کے ساتھ گیا؟

image

مسجدِ نبوی ﷺ سے وائرل ہونے والے بابا جی قادر بخش جن کی ویڈیوز اور تصاویر بہت مشہور ہوئی تھیں، لوگوں نے سادہ صف انسان کو پُرانے دور کے لوگوں سے مماثلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوئی اللہ کے نیک بزرگ ہیں۔ انہوں نے بکریاں چُرا کر عمرے کے لیے رقم جمع کی تھی اور یوں وہ عمرے کے لیے گئے تھے۔ ان کی تصاویر وائرل ہوئیں تو سعودی حکام نے بھی ان کی حج کی ادائیگی کی خواہش کو تکمیل پہنچانے کا وعدہ کیا تھا اور پاکستانی معروف بلڈر نے بھی یہ ذمہ اٹھایا تھا کہ قادر بخش کو حج کی ادائیگی کروانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی۔

بہرحال ان کی یہ کوششیں پوری ہوگئیں اور اب قادر بخش حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ کعبہ پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے یہ باباجی حب چوکی کے قریب ساکران کے علاقے میں ایک جھونپڑی میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چاروں طرف جھڑیوں اور ہریالی میں گھری جھونپڑی انتہائی سادہ تھی، جہاں سوائے چٹائی کے اور کچھ نہ تھا۔

باباجی 8 سے 10 پہلے یہ سوچ چکے تھے کہ انہیں عمرہ کرنا ہے، گزشتہ 15 سال سے باباجی بکریاں چرا کر پیسے اکھٹے کرتے رہے تاکہ اللہ کے گھر اور آخر زماں حضرت محمد ﷺ کے شہر کی زیارت حاصل ہو سکے۔

تاہم کورونا نے ان کا خواب پورا ہونے سے روکا تو ٹھہر تو گئے مگر ہمت نہ ہاری اور پھر دوبارہ پیسے جمع کیے کیونکہ باباجی کا پاسپورٹ ایکسپائر ہو چکا تھا۔ پہلے دیے گئے۔

انٹرویو کے دوران باباجی نے بتایا تھا کہ جب مشہور ہوئے تو لوگ میرے ساتھ ویڈیو بناتے، لوگ دعا کی طلب بھی کرتے، لیکن اُس وقت تک مجھےخود علم نہیں تھا کہ لوگ میرے پاس کیوں آ رہے ہیں۔

بابا جی نے اللہ کے گھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنے گھر بلاتے رہنا۔ قادر بخش کے بیٹے کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 15 سال پہلے حج کا ارادہ کیا تھا، نبی ﷺ کے روزے کا دیدار کروں گا، مگر اس وقت ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، باباجی نے بکریاں چرا کر پیسے اکھٹے کرنا شروع کیے۔ بچوں کی پریشانی تھی کہ کہیں بابا لاپتہ نہ ہو جائیں کیونکہ نہ موبائل فون تھا اور نہ ان کے ساتھ کوئی گروپ تھا۔ کیونکہ والد تنہا ہی نکل پڑے تھے۔

لیکن بیٹے نے سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی مدد سے والد کی خبر ملتی رہتی، لیکن بیٹے نے یہ انکشاف بھی کیا کہ والد کبھی کبھار مسجد الحرام میں ہی سو جاتے تھے، کھانا پینا تو مسجد الحرام میں ہوتا تھا مگر سعودی عرب میں ان کی زندگی کے حسین لمحات گزرے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US