ہمارے یہاں نا جانے کتنی ہی ایسی خواتین ہیں جو شوہر اور سسرال والوں کی زیادتیوں اور چھوٹی سوچ کا نشانہ بن رہی ہیں۔ ہم آئے دن ایسے واقعات سنتے ہیں جن میں کبھی بچہ نہ پیدا کرنے پر طلاقیں تو کبھی بیٹا نہ پیدا کرنے پر ظلم، کسی کو جاب نہ کرنے دینا تو کسی سے زبردستی مزدوری کروانا۔
یہ وہ زیادتیاں ہیں جو خواتین برسوں سے سہتی آرہی ہیں، کچھ اسکا مقابلہ کرتی ہیں تو کچھ بیچاریاں بے بس ہو کر بس برداشت کرتی ہیں۔ آج ہم آپ کو اسی حوالے سے ایک باہمت خاتون کی کہانی بتارہے ہیں جس نے مشکلوں سے ڈرنے کے بجائے اسکا مقابلہ کیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون زہرا بی بی نے جب شہرمیں رکشہ چلانا شروع کیا تو یہ کوئٹہ جیسے شہر میں لوگوں کے لیے کسی حیرت سے کم نہیں تھا۔ آئیے جانتے ہیں انہیں ایسا کیوں کرنا پڑا
زہرا بتاتی ہیں کہ، جب میرے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو میرے شوہر اور سسرال والوں نے بہت تنقید کی، میرے سسر نے کہا کہ ہمیں بیٹا کیوں پیدا کر کے نہیں دیا؟ ان لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ شوہر لاہور میں ملازمت کرتا تھا، وہ تو جیسے مجھ سے اور میری بیٹی سے غافل ہی ہوگیا، اس نے مجھے خرچہ تک دینا بند کردیا بغیر یہ سوچے کہ ہم دونوں کا گزارہ کیسے ہوگا۔
میں پریشان تھی کہ بیٹی کی پرورش کیسے کروں گی کیا ہوگا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، پھر میں اپنی بیٹی کو لے کر اپنے بہن بھائیوں کے پاس آگئی اور چھوٹا موٹا کام کرنے لگی۔ شروعات میں، میں نے 9 سال ڈھابے پر کام کیا اسکے بعد موٹر سائیکل پر ایک بچی کو پک ایںڈ ڈراپ دینے کا کام ملا تو میں اس طرف آگئی۔
میں نے پھر رکشا چلانا سیکھی اور بچیوں کو اسکول لانے لے جانے کا کام شروع کیا، یہ کام اچھا چل رہا تھا اور اللّٰہ کا شکر تھا کہ میرے بھائیوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا نہ ہی مجھے باعزت طریقے سے محنت مزدوری کرنے سے روکا۔ میں نے رکشا چلا کر اپنی بیٹی کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ہے۔
مجھے اب وومن فاؤنڈیشن والوں نے ایک وین دی ہے، جسے میں چلانا سیکھ رہی ہوں تا کہ اچھی آمدنی سے میں اپنی بیٹی کا مستقبل سنوار سکوں۔