پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کی علی الصبح سے ہونے والی ریکارڈ موسلا دھار بارش کے بعد مختلف واقعات میں اب تک دو خواتین اور ایک 11 سالہ بچے سمیت سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
صوبائی حکومت کے مطابق لاہور میں بارش کا گذشتہ 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں 10 گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 236 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
حکام کے مطابق اس دوران سات افراد ہلاک ہوئے جن میں سے تین افراد بجلی کے کرنٹ کی وجہ سے اور تین افراد چھتوں کے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایک 11 سالہ بچے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بارش کے پانی میں کھیل رہا تھا اور ڈوبنے کی وجہ سے اس کی ہلاکت ہوئی۔
لاہور میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جہاں شہر میں 10 گھنٹوں کے دوران 295 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ لکشمی چوک میں سب سے زیادہ 295 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ایم ڈی واٹراینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور مون سون کے جوبن کی وجہ سے لاہور بارش کی زد میں آگیا ہے جس سے شہر میں 10گھنٹوں میں ریکارڈ توڑ بارش ہوئی اور شہر بھر کے درجن سے زائد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
صوبے کے نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے دعوی کیا ہے کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
لیسکو چیف کا کہنا ہے کہ لاہور میں موسلا دھار بارش سے مال روڈ اورجی او آر کے علاقوں میں متعدد درخت گرگئے جس کے باعث بجلی کے تار بھی ٹوٹ گئے، متعدد بجلی کے پولز ٹوٹنے سے شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے تاہم فیلڈ اسٹاف بجلی کا ترسیلی نظام بحال کرنے میں مصروف ہیں۔