مولانا طارق جمیل جو ہر دل عزیز اسکولر ہیں، حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شریک ہوئے۔ جہاں انہوں نے اپنے بچپن کے کچھ دلچسپ قصے شئیر کئے۔
میزبان نے انٹرویو کے دوران مولانا طارق جمیل سے سوال کیا کہ وہ اسکول کے دور میں کس طرح کے طالب علم تھے؟ جس پر معروف اسلامک اسکالر نے انکشاف کیا کہ، وہ اپنے بچپن میں پڑھائی سے بھاگنے والے طالبِ علم تھے، انہیں پڑھائی میں خاص دلچسپی نہیں تھی۔
مولانا طارق جمیل نے اپنے بچپن کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ، میرے والد صاحب مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے مگر میں تعلیم میں دل لگانے کے بجائے فلمی میگزین وغیرہ پڑھنے کو ترجیح دیتا تھا۔
انہوں نے اپنے اسکول کے دور کا ایک دلچسپ واقعہ بتایا کہ، پتہ نہیں کیسے ایک بار آٹھویں کلاس میں میری دوسری پوزیشن آگئی تھی، اور میری کلاس ٹیچر نے اس بات پر میرے کان کھینچے اور کہا کہ، بتاؤ بغیر پڑھے تمھاری دوسری پوزیشن کیسے آ گئی ہے؟ اُن سے والد صاحب نے بھی حیرت سے سوال پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اپنی شادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مولانا طارق جمیل نے کہا کہ، کیوں کہ میں نے اسلام کا رستہ چُنا تھا اسی لیے خاندان میں رشتے ہونے کے باوجود مجھے خاندان میں سے کسی فیملی نے اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیا تھا۔