“چاند کا ٹکڑا ’امریکہ نے اس وقت پاکستان کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو دیا تھا۔ اس کے بعد جب قومی نوادرات کو مختلف اداروں کے حوالے کیا گیا تو اس ٹکڑے کو نیشنل میوزیم کو دے دیا گیا، تب سے یہ نیشنل میوزیم آف پاکستان، کراچی میں رکھا ہوا ہے۔“
یہ کہنا ہے محمد یعقوب خان کا جو کراچی میں واقع نیشنل میوزیم آف پاکستان کے کیوریٹر ہیں۔ یہ چاند کا ٹکڑا 1972 میں امریکی خلاباز چاند سے لائے تھے اور بعد میں دیگر ملکوں کے علاوہ پاکستان کو بھی تحفے کے طور پر دیا گیا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس چاند کو ہم زمین سے دیکھتے ہیں وہ داغ دار تو نظر آتا ہے لیکن سفید اور چمکدار بھی ہوتا ہے لیکن میوزیم میں رکھا چاند کا ٹکڑا کالے رنگ کا ہے۔ اس کے متعلق بات کرتے ہوئے محمد یعقوب خان کنور کا کہنا تھا کہ’سورج کی روشنی کے باعث چاند چمکتا ہے اور سفید رنگ کا نظر آتا ہے، مگر چاند پر آکسیجن نہیں ہے اور چاند کی زمین سیاہ رنگ کی ہے۔‘
چاند کا یہ ٹکڑا اس قدر قیمتی ہے کہ مختلف ممالک میں یہ چوری کیا جاچکا ہے لیکن پاکستان میں یہ ابھی بھی محفوظ ہے اس کے علاوہ اسے تحقیقی معاملات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔