گھر سے باہر بیٹھے ہوئے آپ کو شاید کنکر یا پتھر تو لگے ہوں لیکن ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ کسی کو شہاب ثاقب آ لگا ہو۔ اگرچہ شہاب ثاقب بھی زمین پر ٹوٹ کر گرتے ہیں ایسے واقعات اگرچہ شاذ و نادر پیش آتے ہیں لیکن بہرحال وجود رکھتے ہیں۔ اس کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا۔
فرانس کے علاقے Schirmeck میں ایک خاتون اپنی دوست کے ساتھ گھر کے ٹیرس پر بیٹھی ہوئی کافی پیتے ہوئے باتیں کررہی تھیں جب انہیں پسلی سے کچھ ٹکرانے کا احساس ہوا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ “چھت پر دھماکے کی آواز سنائی دی تھی اور اس کے ایک سیکنڈ بعد میری پسلیوں کو جھٹکا لگا اس وقت مجھے لگا کہ کوئی چمگادڑ مجھ سے ٹکرا گئی ہے“
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اسے معمولی پتھر یا سیمنٹ کا ٹکڑا سمجھ رہی تھیں لیکن گھر پر مرمت کے لئے آنے والے شخص نے انھیں کہا کہ یہ عام سیمنٹ نہیں ہے بلکہ یہ شہاب ثاقب ہوسکتا ہے۔پھر خاتون نے اس ٹکڑے کو ایک ماہر ارضیات Thierry Rebmann کو دکھایا۔
ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ پتھر شہاب ثاقب ہی ہے اور یہ خلائی چٹان آئرن اور سیلیکون پر مبنی محسوس ہوتا ہے اور اس کا مجموعی وزن 2 کلو گرام سے کم ہے۔
ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے شہاب ثاقب ٹکرانے کا صرف ایک ہی واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ البتہ لوگ شہاب ثاقب کے انسانوں سے ٹکرانے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، درحقیقت اس سے پہلے صرف ایسا ایک واقعہ ہی ثابت ہو سکا ہے۔ البتہ لوگوں کو ان کے گھر کے لان میں کبھی کبھار شہاب ثاقب کا ٹکڑا مل جاتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ایک تخمینے کے مطابق روزانہ اوسطاً شہاب ثاقب کا 50 ٹن ملبہ زمین کی سطح پر گرتا ہے۔