گردے میں پتھری اور لو بلڈ پریشر۔۔ جامن کھانا کس وقت نقصان دہ بن جاتا ہے؟ ابھی جان لیں

image

جامن، جسے ہندوستانی بلیک بیری یا بلیک بیر بھی کہا جاتا ہے، ایک غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس میں صحت کے لئے مختلف فوائد موجود ہیں۔ البتہ جامن سمیت کسی بھی چیز و دیادہ کھانے سے کچھ نقصانات ہوسکتے ہیں۔جن میں سے کچھ ہم یہاں بیان کررہے ہیں۔

نظام ہاضمہ متاثر

ہاضمے کے مسائل: جامن کا زیادہ استعمال ہاضمے کے مسائل جیسے اسہال، پیٹ میں درد اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔ پھلوں میں ریشہ کی زیادہ مقدار، اگر ضرورت سے زیادہ لی جائے تو نظام ہاضمہ خراب ہوجاتا ہے۔

بلڈ شوگر کا بہت زیادہ بڑھنا اور کم ہونا

اگرچہ جامن اپنے کم گلیسیمک انڈیکس کی وجہ سے خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے شکار افراد میں۔ یہ اچانک شوگر کو بہت زیادہ کم بھی کرسکتی ہے جو بہت خطرناک ہے۔

معدے کی خرابی

کچھ لوگ جامن میں موجود مرکبات کے لیے حساس ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے یا الرچی، سوچن اور خارش بھی ہوسکتی ہے۔

دانتوں کی خرابی

جامن، بہت سے دوسرے پھلوں کی طرح، قدرتی شکر پر مشتمل ہوتا ہے جو اگر زیادہ استعمال کیا جائے تو دانتوں کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔ چینی کی زیادہ مقدار دانتوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

وزن میں اضافہ

جامن، کیلوریز میں کم ہونے کے باوجود چینی اور کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہے۔ زیادہ کیلوریز والی غذا کے ساتھ جامن کا زیادہ کھانا یا اسے زیادہ مقدار میں استعمال کرنا وقت کے ساتھ وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

دواؤں کے ساتھ ردعمل

جامن میں کچھ دواؤں والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں مثال کے طور پر یہ خون میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔ اگر آپ ذیابیطس یا دیگر صحت کی حالتوں کے لیے دوا لے رہے ہیں، تو زیادہ مقدار میں جامن کا استعمال دوا کی تاثیر میں فرق پیدا کرسکتا ہے۔

گردے کی پتھری

جامن کے بیجوں میں آکسیلیٹ کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، جسے اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ حساس افراد میں گردے کی پتھریبھی پیدا کرسکتا ہے۔

لو بلڈ پریشر

جامن میں اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتے ہیں البتہ زیادہ تعداد میں انھیں کھانے سے ہائپو ٹینشن کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہوسکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US