“میرا پرانا نام انجو تھا اور عیسائی مذہب سے تعلق تھا اور اب نے خوشی اور مرضی سے دین اسلام قبول کیا ہے، کسی نے کوئی زبردستی نہیں کی۔ میں نصراللہ کو پسند کرتی ہوں“
یہ کہنا ہے بھارت سے محبت کی خاطر گھر بار چھوڑ کر پاکستان سے آنے والی انجو کا جو اب اسلام قبول کر کے اپنا نام فاطمہ رکھ چکی ہیں۔ انجو نے حلفی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف نصراللّٰہ کی خاطر ہی بھارت سے پاکستان آئی ہیں اور ان کا حق مہر 10 تولہ سونا رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ نصراللّٰہ ان کا شرعی اور قانونی شوہر ہے۔
ڈی آئی جی مالاکنڈ ڈویژن ناصر محمود ستی نے بھی انجو اور نصراللّٰہ کے نکاح کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت سے آئی خاتون نے اسلام قبول کر کے اپنا نام فاطمہ رکھ لیا ہے، دونوں کا نکاح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہوا اور اب انھیں بحفاظت گھر منتقل کردیا گیا ہے۔
دو بچوں کی ماں انجو نے اپنے بیان حلفی میں اس بات کی وضاحت کی کہ وہ پاکستان میں مکمل محفوظ ہے، قانونی طریقے سے پاکستان آئی ہے، قانونی طریقے سے بھارت واپس چلی جائے گی جبکہ ان کے بچوں اور رشتے داروں کو پریشان نہ کیا جائے جسے بات کرنی ہے، وہ اس سے رابطہ کر لے، وہ میڈیا سے بات کرنے کو تیار ہے۔