"میرے بیٹے نے نہ تو مذہبی تعلیم حاصل کی اور نہ ہی دنیاوی تعلیم حاصل کی. وہ گھنٹوں تک مجھ سے باتیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے خدا کے پاس جانا ہے۔ "
جواں سالہ بیٹے کی نماز جنازہ کے وقت مولانا طارق جمیل نے بیٹے کو بچپن سے لاحق ڈسلیکسیا کی بیماری کا ذکر کیا تو لوگ اس بارے میں جاننے کے لئے کوشش کرنے لگے. دراصل یہ کسی بیماری کی علامت نہیں بلکہ بذات خود ایک بیماری ہے جس کی علامات اس وقت سامنے آتی ہے جب بچہ بولنے اور اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے. ایسے بچوں کو حروف کو پہچاننے، لکھنے اور پڑھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔
ڈسلیکسیا کا کوئی علاج نہیں ہے البتہ اس کی علامات کم کرنے کے لئے دوائیں اور تھیراپیز تجویز کی جاتی ہیں. ماہر امراض اطفال سمیت اعصابی اور دماغی بیماریوں کے ماہرین کے پاس بچوں کو لے جایا جاسکتا ہے۔ یہ زیادہ تر جینیاتی مسائل کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے. البتہ لوگوں کے حوصلہ شکن رویے کی وجہ سے بچہ ڈپریشن کا شکار بھی ہوسکتا ہے.
اس بیماری پر چند سال پہلے بھارت میں تارے زمین پر نامی مشہور زمانہ فلم بنائی گئی تھی جس میں ایک بچہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے لیکن کوئی بھی اس کو سمجھ نہیں پاتا.