جو کریں گے وہ واپس بھی لانا ہو گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کرنے والوں کو اپنا پاخانہ اپنے ساتھ واپس بیس کیمپ لانا ہوگا جہاں اسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔
بہت سے کوہ پیما ایورسٹ کے اونچے کیمپوں پر کھلی جگہوں کو بیت الخلاء کے طور پر استعمال کرتے ہیںجو کریں گے وہ واپس بھی لانا ہو گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کرنے والوں کو اپنا پاخانہ اپنے ساتھ واپس بیس کیمپ لانا ہو گا جہاں اسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔
پاسانگ لہمو دیہی بلدیہ کے چیئرمین منگما شرپا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پہاڑوں سے بدبو آنے لگی ہے۔‘
یہ بلدیہ ماؤنٹ ایورسٹ کے زیادہ تر علاقے کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے اور اس نے پہاڑوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے نئے اقدامات نافذ کیے ہیں اور کوہ پیماؤں کے لیے اپنا پاخانہ جمع کر کے واپس بیس کیمپ تک لانے کا نیا اصول بھی انھی اقدامات کا حصہ ہے۔
ماؤنٹ ایورسٹ پر شدید سردی کی وجہ سے انسانی فضلہ ماحول میں مکمل طور پر ضمن نہیں ہو پاتا جس کے باعث کندگی اور بدبو میں اضافہ ہوتا ہے۔
بلدیہ چیئرمین منگما کہتے ہیں ’ہمیں شکایات مل رہی ہیں کہ پہاڑوں پر موجود پتھروں پر انسانی پاخانہ پڑا رہتا ہے اور کچھ کوہ پیما اس گندگی کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہے اور ہمارا امیج خراب ہوتا ہے۔‘
نئے اقدامات کے اعلان کے بعد اب دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اور اس کے قریب واقع ماؤنٹ لہوٹسے کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو کہا جائے گا کہ وہ بیس کیمپ سے ’پو بیگز‘ یعنی پاخانے جمع کرنے کی تھیلی خریدیں، اس میں اپنا پاخانہ جمع کریں اور اُن کے واپس بیس کیمپ پر آنے پر ’ان کو چیک کیا جائے گا۔‘
پہاڑ پر پاخانہ کہاں کیا جاتا ہے؟
کوہ پیمائی کے سیزن کے دوران زیادہ تر کوہ پیما اپنا وقت بیس کیمپ پر گزارتے ہیں جہاں وہ اپنے جسم کو اونچائی اور کم آکسیجن کی صورتحال سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ بیس کیمپ پر ٹوائلٹ کے لیے الگ خیمے لگائے جاتے ہیں جن کےنیچے ڈبے ہوتے ہیں جن میں پاخانہ جمع ہوتا رہتا ہے۔
لیکن جب وہ پہاڑ کو سر کرنے کے اپنے مشکل سفر کا آغاز کرتے ہیں تو یہ کام مشکل ہو جاتا ہے۔
کوہ پیما اور ان کا عملہ زیادہ تر پہاڑ کے مختلف حصوں میں چھوٹی چھوٹی کھدائی کر کے پاخانہ کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے اونچائی زیادہ ہوتی ہے اور کچھ جگہوں پر برف کی سطح کم ہوتی ہے تو کُھلے میں ہی پاخانہ کرنا پڑتا ہے۔
کوہ پیمائی کرتے ہوئے بہت کم لوگ ’بائیو ڈیگریڈ ایبل بیگز‘ میں پاخانہ اپنے ساتھ واپس لاتے ہیں، اور اس عمل میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔
اگرچہ صفائی کی مہم میں اضافہ ہوا ہے اور اب سال میں ایک مرتبہ یہ کام نیپالی فوج بھی کرتی ہے لیکن کچرا ماؤنٹ ایورسٹ اور خطے کے دیگر پہاڑوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
’کُھلے ٹوائلٹ‘
غیر سرکاری تنظیم ’ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی‘ (ایس پی سی سی) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر چھیرنگ شرپا کہتے ہیں ’انسانی فضلہ ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر اونچے کیمپوں میں جہاں آپ نہیں پہنچ سکتے۔‘
سرکاری طور پر اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں لیکن اُن کی تنظیم نے اندازہ لگایا ہے کہ ایورسٹ پر موجود نیچے کے پہلے کیمپ اور اونچائی پر موجود چوتھے کیمپ کے درمیان تین ٹن انسانی پاخانہ موجود ہے۔
چھیرنگ کہتے ہیں ’اس میں سے آدھے کے بارے میں مانا جاتا ہے وہ ساؤتھ کول میں ہے جسے کیمپ فور بھی کہا جاتا ہے۔‘
سٹیفن کیک ایک بین الاقوامی پہاڑی گائیڈ ہیں جو ایورسٹ کی مہمات کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ساؤتھ کول نے ’کھلے بیت الخلا‘ کے طور پر شہرت حاصل کر لی ہے۔
25938 فٹ کی بلندی پر موجود ساؤتھ کول ایورسٹ اور لہوٹسے پہاڑ کو سر کرنے والوں کے لیے اپنے سفر کے آغاز سے پہلے بیس کا کام کرتی ہے۔
سٹیفن کیک کہتے ہیں ’وہاں نہ ہونے کے برابر برف ہے تو آپ کو ہر طرف انسانی پاخانہ نظر آتا ہے۔‘
کوہ پیماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مطلب ہے کہ ایورسٹ پر فضلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہےپاسانگ لہمو دیہی میونسپلٹی کی اجازت کے ساتھ ایس پی سی سی اب مارچ میں شروع ہونے والے کوہ پیمائی کے آئندہ سیزن کے لیے اندازاً 400 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور 800 معاون عملے کے لیے امریکہ سے تقریباً 8,000 ’پو بیگز‘خرید رہا ہے۔
ان بیگز میں ایسے کیمیکل ہوں گے جس سے پاخانہ سخت ہو جاتا ہے اور اس سے زیادہ بُو ختم ہو جاتی ہے۔
چھیرنگ سمجھاتے ہوئے بتاتے ہیں ’اسے بنیاد رکھتے ہوئے ہم حکمت عملی بنا رہے ہیں کہ ان کو دو بیگ دیے جائیں گے اور ہر بیگ کو پانچ سے چھ دفعہ استعمال کیا جا سکے گا۔‘
ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن آف نیپال کے صدر ڈمبر پاراجولی کہتے ہیں ’یہ یقینی طور پر ایک مثبت چیز ہے، اور ہمیں اس کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں خوشی ہو گی،‘
انھوں نے کہا کہ اُن کی تنظیم نے تجویز دی تھی کہ اسے پہلے ایورسٹ پر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر لایا جائے اور پھر دوسرے پہاڑوں پر بھی اس کی نقل تیار کی جائے۔
منگما شرپا وہ پہلے نیپالی ہیں جنھوں نے 8,000 میٹر سے اوپر کے تمام 14 پہاڑوں کو سر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی فضلے کے انتظام کے لیے اس طرح کے تھیلوں کا استعمال دوسرے پہاڑوں پر بھی آزمایا گیا ہے۔
منگما شرپا نیپال کی کوہ پیمائی ایسوسی ایشن کے مشیر بھی ہیں وہ کہتے ہیں ’کوہ پیما ماؤنٹ ڈینالی (شمالی امریکہ کی سب سے اونچی چوٹی) اور انٹارکٹک میں بھی ایسے بیگ استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے ہم اس کا کہہ رہے ہیں،‘
بین الاقوامی پہاڑی رہنما مسٹر کیک نے بھی اسی پیغام کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال پہاڑ کو صاف کرنے میں مدد دے گا۔
سٹیفن کیک نے بھی اسی پیغام کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہاڑ کو صاف کرنے میں مدد دے گا۔
نیپال کی مرکزی حکومت نے ماضی میں کوہ پیمائی کے کئی قوانین کا اعلان کیا ہے لیکن تنقید کی جاتی رہی ہے کہ ان میں سے کئی پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔
اس کی ایک بڑی وجہ زمین پر لیئزان افسران کی عدم موجودگی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو بیس کیمپوں میں مہم کی ٹیموں کے ساتھ ہونا چاہیے لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کو ایسا نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسانگ لہمو دیہی میونسپلٹی کے چیئرمین منگما کہتے ہیں ’ریاست ہمیشہ بیس کیمپوں میں غائب رہی ہے جس کی وجہ سے ہر قسم کی بے قاعدگیاں ہوتی ہیں جن میں لوگ بغیر اجازت کے ہمارے پہاڑوں پر چڑھتے ہیں۔‘
’یہ سب اب بدل جائے گا۔ ہم ایک رابطہ دفتر چلائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے نئے اقدامات بشمول کوہ پیماؤں کو ان کے پاخانے کو واپس لانے پر عمل درآمد کیا جائے۔‘