ایٹمی ہتھیار، معاشی مدد یا امریکہ کے لیے پیغام: کم جونگ اُن اور پوتن چین کیوں جا رہے ہیں؟

بی بی سی کی کورین، روسی اور چینی زبان کی سروسز اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ بیجنگ میں ہونے والی فوجی پریڈ میں اہم عالمی رہنماؤں کی ملاقات سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔
روسی صدر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان
AFP via Getty Images
روسی صدر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بدھ کو چین میں نظر آئیں گے

بدھ کو بیجنگ کے معروف تیانانمن سکوائر پر ایک بڑی فوجی طاقت کی نمائش ہو گی، جہاں سے ایٹمی میزائل اور ٹینک گزریں گے اور ففتھ جنریشن کے جنگی جہاز فضا میں پرواز کرتے نظر آئيں گے۔

لیکن چین کے ’وکٹری ڈے‘ کی پریڈ میں بہت سے لوگوں کی نظریں ہتھیاروں کے بجائے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن اور روسی صدر ولادیمیر پوتن پر ہوں گی، جو چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے اس پریڈ میں شریک ہوں گے۔

یہ دونوں عالمی رہنما حالیہ برسوں میں شاذونادر ہی بیرونِ ملک کے دورے پر کہیں گئے ہیں، اس لیے دوسری عالمی جنگِ کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ کے طور پر منائی جانے والی اس تقریب میں ان کی موجودگی یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ان تین اہم ممالک کے تعلقات اور مستقبل کے منصوبے کس سمت جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی کوریائی، روسی اور چینی سروسز کے ماہرین نے اس حوالے سے اپنی آرا پیش کی ہے جو ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

کوریائی وقار اور سیاحت

چینی فوج کی خواتین بریگیڈ کی ایک تصویر
AFP via Getty Images
بیجنگ میں وکٹری ڈے پریڈ کی مشقیں پہلے سے ہی جاری ہیں

بی بی سی کوریَن نیوز کی جونا مُون کہتی ہیں کہ ’کم اور شی کی ملاقات لگ بھگ چھ برس بعد ہو گی۔‘

’کم نے سنہ 2019 میں آخری بار چین کا دورہ کیا تھا اور اس سے پہلے وہ ہنوئی میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے گئے تھے اور اسی سال شی جن پنگ نے پیونگ یانگ کا دورہ کیا تھا۔‘

اس تقریب میں بہت سی چيزیں پہلی بار ہو رہی ہیں۔ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ شمالی کوریا، چین اور روس کے رہنما ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

یہ شمالی کوریا کی حالیہ قیادت کے لیے ایک غیرمعمولی واقعہ ہے کیونکہ کم جونگ اُن اور ان کے والد کم جونگ اِل عموماً صرف دو طرفہ ملاقاتوں تک محدود رہے ہیں۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سنہ 1959 کے بعد پہلی بار کوئی شمالی کوریائی رہنما چین کی فوجی پریڈ میں شریک ہو گا۔

مُون شمالی کوریا میں چاول کی بڑھتی ہوئی قیمت کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شمالی کوریا معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں چین کی امداد ان کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

کم جونگ اُن چاہتے ہیں کہ چین کی امداد سے اکتوبر میں شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی کی 80ویں سالگرہ اور اگلے برس ہونے والی نویں پارٹی کانگریس کفایت شعاری کے بجائے شان و شوکت سے منائی جا سکے۔

شی جن پنگ اور کم جونگ ان مصافحہ کرتے ہوئے
Gamma-Rapho via Getty Images
بیجنگ میں ہونے والی پریڈ میں شرکت سے شی جن پنگ اور کم جونگ ان کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں

لیکن شمالی کوریا کو ایک اور غیر متوقع معاشی مسئلے پر بھی چین کی مدد درکار ہے۔

مُون کہتی ہیں کہ ’پیونگ یانگ امید کرتا ہے کہ بڑی تعداد میں چینی سیاح نئے کھلنے والے وونسان کالما ساحلی سیاحتی مقام کا رخ کریں گے اور اس کے لیے چینی کمیونسٹ پارٹی کی اجازت درکار ہوگی۔‘

لیکن شمالی کوریا کے رہنما کا بیجنگ کا دورہ صرف پیسے یا امداد کے لیے نہیں۔

کِم عام طور پر ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی ایک پر زیادہ انحصار نہ کریں۔ یہ تقریب انھیں ایک ساتھ دونوں کے ساتھ ہونے کا نادر موقع فراہم کرے گی۔

مُون کے مطابق ’شی اور پوتن کے ساتھ کھڑے ہو کر کِم خود کو بڑی طاقتوں کے برابر دکھانا چاہیں گے اور اس بات کا اشارہ دینا چاہیں گے کہ ممکنہ چین-روس-شمالی کوریا اتحاد میں شمالی کوریا مرکزیت رکھتا ہے۔‘

کِم شاید یہ بھی چاہتے ہوں کہ صدر شی اکتوبر میں ورکرز پارٹی کی تقریبات میں شریک ہوں، جس سے ان کا وقار اندرونِ اور بیرونِ ملک بلند ہو گا۔

یہ سب کچھ جنوبی کوریا کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

مُون کہتی ہیں کہ ’کِم کا یہ دورہ وسیع پیمانے پر امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے بڑھتے ہوئے تعاون کا جواب سمجھا جا رہا ہے اور یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ پیونگ یانگ چین اور روس کے ساتھ اپنی سہ فریقی وابستگی کو مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

اگر یہ تعاون مزید بڑھتا ہے تو جنوبی کوریا کی سلامتی کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ ہتھیاروں، فوجی ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس اور رسد کے شعبے میں پیونگ یانگ، بیجنگ اور ماسکو کے درمیان غیر رسمی تعاون کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

روس دوبارہ عالمی منظرنامے پر

پوتن اور ٹرمپ کی الاسکا میں ملاقات
Getty Images
الاسکا میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد پوتن کی بیجنگ میں ہونے والی پریڈ میں شرکت ان کے وقار میں اضافے کے طور پر دیکھی جائے گی

بی بی سی رشین نیوز کے الیکسی کیلمیکوف کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ الاسکا کی سربراہی ملاقات کے فوراً بعد بیجنگ کی دعوت آئی، جو ولادیمیر پوتن کے لیے کسی ’موسیقی‘ کی طرح ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یوکرین پر حملے کے بعد روس برسوں سے عالمی سطح پر پابندیوں کی وجہ سے کٹ چکا تھا۔ پوتن، جو کبھی جی سیون میں برابر کے شریک تھے، اب ایسے شخص بن گئے ہین جن کے خلاف عالمی فوجداری عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔‘

لیکن اب یکے بعد دیگرے دو بڑی عالمی طاقتیں ان کے لیے سرخ قالین بچھا رہی ہیں۔

کیلمیکوف کہتے ہیں کہ ’روسی حکام ایسے بین الاقوامی کامیابی کے خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن اب یہ حقیقت ہے۔‘

بیجنگ میں پریڈ میں شرکت نہ صرف ان کی بین الاقوامی حیثیت کو مستحکم کرے گی بلکہ روسی عوام کو بھی یہ یقین دلائے گی کہ ملک کا عالمی سطح پر مقام محفوظ ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’بے شمار مصافحے، دوستانہ بغل گیری اور سرخ قالین یہ دکھانے کے لیے ہیں کہ ماسکو بیجنگ کا جونیئر پارٹنر نہیں بلکہ برابر کا شریک ہے۔‘

ذاتی تعلقات سے ہٹ کر، اس پریڈ کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے کیونکہ یہ جاپان کی دوسری عالمی جنگِ میں شکست اور جنگ کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ ہے۔

کیلمیکوف کہتے ہیں کہ ’چین میں طاقت کا یہ مظاہرہ دنیا کے باقی حصے کو یہ پیغام دے گا کہ عالمی جنوب شی اور پوتن کے گرد متحد ہے اور یہ ایک ایسی طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی۔

کیلمیکوف کے مطابق روس اور چین کی ’لامحدود دوستی‘ پوری طرح قائم ہے۔

چین کی فوجی طاقت کی نمائش

میزائل سسٹم کا مظاہرہ
Getty Images
2015 میں چین کی 70 ویں سالگرہ پر وکٹری پریڈ میں فوجی سازوسامان کی نمائش

پریڈ میں چین یہ دکھانا چاہے گا کہ وہ جدید اور عالمی فوجی طاقت ہے۔

بی بی سی چائنیز سروس کے مطابق چینی حکام نے اعلان کیا ہے کہ 70 منٹ کی پریڈ میں پیپلز لبریشن آرمی کے نئے ہتھیار پیش کیے جائیں گے، جن میں جدید ہائپرسونک، فضائی اور میزائل دفاعی نظام اور سٹریٹجک میزائل شامل ہیں، جو چین کے اہم جنگی سازوسامان میں سے منتخب کیے گئے ہیں۔

تقریب سے پہلے حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ بہت سا نیا سازوسامان پہلی بار دکھایا جائے گا۔

یہ دنیا بھر میں توجہ حاصل کرے گا کیونکہ ایٹمی سائنسدانوں کے مطابق، چین اس وقت ایٹمی ہتھیاروں کو سب سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھا اور جدید بنا رہا ہے۔

سفارتی محاذ پر، چین کو اس بار اپنے مہمانوں کی فہرست بنانے میں پچھلی بار کی طرح مشکلات کا سامنا نہیں ہو گا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے صدر پوتن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر رکھا ہے اور بیجنگ کو پہلے بھی ایسے مہمانوں کو بلانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن چند ہفتے پہلے صدر ٹرمپ کی جانب سے پوتن کو الاسکا مدعو کرنے کے بعد اب چین پر تنقید مشکل ہو گی، کیونکہ ’امریکی فوجیوں نے بھی پوتن کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا تھا۔‘

اہم صرف یہ نہیں کہ کون آ رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ کون نہیں آ رہا۔

اسی پریڈ میں دس سال پہلے تائیوان کی حکمران جماعت کے اس وقت کے چیئرمین نمایاں مہمان تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب دونوں کے مابین تعلقات اچھے تھے لیکن سنہ 2016 سے تائیوان پر ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کی حکومت ہے، جو بیجنگ سے قدرے فاصلہ رکھتی ہے۔

بی بی سی چائنیز کے مطابق ہانگ کانگ میں اختلافِ رائے کچلنے کے بعد تائیوان نے سرکاری اہلکاروں پر بیجنگ جا کر فوجی پریڈ میں شریک ہونے پر پابندی لگا دی۔‘

نتیجہ یہ ہے کہ اس بار تائیوان کا کوئی نمائندہ ان 26 سربراہانِ مملکت میں شامل نہیں جو تقریب میں آنے والے ہیں۔

چین خودمختار تائیوان کو اپنی سرزمین قرار دیتا ہے اور طویل عرصے سے اس کے ’انضمام‘ کے عزم کا اظہار کرتا آیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US