45 سالہ بنایی نے تین دہائیوں بعد پہلی بار بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح وہ مذہبی انتہاپسندی کی طرف کھنچے چلے گئے، کس قسم کی نظریاتی تربیت پای، اور آخرکار کس فکری تبدیلی سے گزرے۔
’جنت میں خوبصورت کنواری حوریں ہوں گی۔۔۔ یہ حوریں زمین کی حسیناؤں کے مقابلے میں دس لاکھ گنا زیادہ حسین ہیں۔‘
طالبان کے سابق رکن میوند بنایی کا دعویٰ ہے کہ ان سے یہ باتیں ایک ملا نے کی تھیں جس کا ذکر بنایی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ طالبان ملا نے حوروں کا ذکر انتہائی شہوانی اور جنسی پیکرتراشی کے انداز میں کیا تھا۔
حال ہی میں بنایی نے انگلینڈ میں اپنے اس تجربے پر ایک کتاب شائع کی ہے جس میں وہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے اپنی کہانی بیان کرتے ہیں جو ’فدائی‘ (خودکش بمبار) بننے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
45 سالہ بنایی نے تین دہائیوں بعد پہلی بار بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح وہ مذہبی انتہاپسندی کی طرف کھنچے چلے گئے، کس قسم کی نظریاتی تربیت پائی اور آخرکار کس فکری تبدیلی سے گزرے۔
ان کی کہانی ذاتی بھی ہے اور سماجی بھی اور یہ خاص طور پر اس بات کی تصویر کشی کرتی ہے کہ 1970 کی دہائی میں پاکستان میں افغان مہاجر نوجوان کس طرح انتہاپسندی کی لپیٹ میں آئے۔
ان کی کتاب ’ڈِلیوژن آف پیراڈائز: سکیپنگ دی لائف آف اے طالبان فائٹر‘ یعنی ’جنت کے واہمے: طالبان جنگجو بننے سے راہ فرار‘ اسی سال اپریل میں شائع ہوئی ہے۔
یہ کتاب ایک افغان نوجوان کی کہانی ہے جو کابل کی جنگوں میں پلا بڑھا، شدید تشدد سے گزرا اور پھر پاکستان کے مہاجر کیمپ پہنچ کر مذہبی انتہاپسندی کی راہ پر چل پڑا۔
بنايی کا کہنا ہے کہ آخرکار وہ طالبان کی انتہا پسندانہ جہادی سوچ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
اب ان کی یہ کوشش ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو انتہا پسند بننے سے روکیں۔
اپنی شناخت اور عقیدے کے پس و پیش سے نکلنے کے بعد انھوں نے انگریزی سیکھی اور انگلینڈ میں اپنے لیے ایک نئی زندگی بنائی۔
شمشتو کیمپ اور جہادی نسل کی پرورش
میوند بنايی بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً تین دہائیاں قبل جب وہ چودہ سال کے تھے تو اپنے خاندان کے ساتھ کابل سے پشاور ہجرت کر گئے تھے اور ان کا قیام شمشتو کے مہاجر کیمپ میں تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ، جو 1960 کی دہائی میں ابتدائی طور پر سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے لیے بنایا گیا تھا، آہستہ آہستہ جہادی نظریے کی تبلیغ کا مرکز بن گیا۔
پاکستان میں ’شمشتو کیمپ‘ کے نام سے مشہور یہ مہاجر بستیاں باہو، ناصر باغ، جلوزئی، خارده، کوزخیل اور کوہاٹ جیسے دیگر کیمپوں کے ساتھ مل کر سنہ 1970 کی دہائی میں رفتہ رفتہ شدت پسندی کی تعلیم کے مراکز بن گئے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندانہ رجحان افغانوں کی روایتی مذہبی تعلیم سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
ماہرین کے مطابق سرد جنگ کے دوران افغان مجاہدین کو اس کے لیے تیار کرنے میں امریکہ اور سعودی عرب کی مالی و سیاسی پشت پناہی حاصل تھی۔
پاکستانی صحافی احمد رشید کی کتاب ’طالبان‘ اور ’کرائسس گروپ‘ جیسے اداروں کے شواہد کے مطابق یہ حمایت زیادہ تر پاکستان کی فوجی انٹیلیجنس کے ذریعے کی جاتی تھی، جس کا مقصد افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف جہاد کو تقویت دینا تھا۔
شمشتو کیمپ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے زیر اثر تھا۔
سنہ 1988 میں افغانستان سے سوویت فوج کے انخلا اور بعد میں خانہ جنگی کے دوران بھی یہ کیمپ حکمت یار کے زیر اثر رہا۔
بنايی کہتے ہیں: ’شمشتو میں دنیا کو بے وقعت بتایا جاتا تھا اور قربانی و شہادت کو نجات کا واحد راستہ سمجھا جاتا تھا۔‘
سنہ 1993 میں میوند بنايی نے امام اعظم نامی مدرسے میں داخلہ لیا۔
بنايی کے مطابق یہ مدرسہ ’جہاد اور شہادت کی ثقافت کو پروان چڑھانے والی ذہن سازی کرتا تھا۔‘
یہ مدرسہ اب فعال نہیں ہے۔
بنايی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ سکھایا جاتا تھا کہ دنیا کافر ہو چکی ہے اور صرف شہادت ہی جنت میں جانے کا وسیلہ ہے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ اس زمانے کے پاکستانی مولوی افغان علما کے مقابلے میں زیادہ سیاسی اور انتہا پسند تھے۔
بنايی کہتے ہیں کہ اس مدرسے میں نوجوانوں کو سیاسی پیغامات دیے جاتے تھے اور انھیں ’غیر مسلموں‘ اور مغرب سے نفرت کی تعلیم دی جاتی تھی۔
ان کے بقول مولوی تمام مسائل کی ذمہ داری مغرب پر ڈالتے تھے اور مزید یہ کہ وہ فلسطین اور بوسنیا کی تصویریں دکھاتے اور کہتے: ’اپنی بہنوں کی حالت دیکھو، اگر ہم نے شریعت نافذ نہ کی تو اسی طرح ذلیل ہوتے رہیں گے۔‘
بنايی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’شمشتو میں امام اعظم مدرسے میں ایسے لوگ تھے جو میرے ہم جماعتوں کو لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور جیش محمد (پاکستانی شدت پسند تنظیموں) کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیار کرتے اور انھیں جہاد کے لیے اپنے ساتھ کشمیر لے جاتے۔‘
انھوں نے کچھ ایسے ہی نوجوان کا اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ ان کے بقول ’وہ بعد میں کابل میں خودکش حملوں میں شامل ہوئے۔ اس وقت میں سکول میں تھا اور میری زندگی کی واحد خواہش یہ تھی کہ غیر مسلموں کے خلاف لڑوں اور اللہ کی راہ میں مارا جاؤں۔‘
بنايی مزید بتاتے ہیں کہ شمشتو کیمپ میں عوامی تقریبات پر عورتیں موجود نہیں ہوتی تھیں اور ’مرد و زن‘ کے درمیان مکمل علیحدگی کا نظام رائج تھا، لیکن اس کے باوجود مولوی جنت کی شہوانی خصوصیات اور حوروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں وضاحت کرتے رہتے تھے ’جبکہ ہمارے ذہنوں میں عورت کا جو تصور تھا وہ صرف حجاب میں ڈھکی ہوئی خواتین کا تھا۔‘
ان کے مطابق، مولویوں کے یہ وعدے نوجوانوں پر گہرے نفسیاتی اثرات ڈالتے تھے: ’ہم بھوکے، غریب، جنسی طور پر دبے ہوئے اور بے بس تھے۔ جنت اور آخرت کے یہ وعدے ہمارے لیے امید کا سہارا تھے۔‘
وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ اس ماحول میں مذہبی نظریہ ایک خاص پیغام کے ساتھ جڑا ہوا تھا: ’لڑو اور شہید ہو جاؤ۔‘
طالبان میں شمولیت اور وہ لمحہ جب شک پیدا ہونا شروع ہوا
بنايی بتاتے ہیں کہ پشاور میں چند برس گزارنے کے بعد وہ سنہ 1997 میں کابل واپس چلے گئے، جہاں اس وقت تک طالبان نے اپنا تسلط قائم کر لیا تھا اور افغانستان کے بیشتر علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے تھے۔ طالبان اپنی مخصوص مکتـبہِ فکر کے مطابق اسلامی شریعت کا سخت ترین نفاذ کر رہے تھے، جو بالکل اسی انداز کا تھا جیسا انھوں نے پاکستان میں اپنی تعلیم کے دوران سیکھا تھا۔
ان کے لیے طالبان میں شامل ہونا مشکل نہ تھا، کیونکہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی طالبان کے ساتھی تھے۔ ان کی سرگرمیوں میں فوجی تربیت، ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے احکامات پر عمل کروانا اور شمالی افغانستان میں احمد شاہ مسعود کی فوج کے خلاف ’فدائی یا شہیدی کارروائیوں‘ کی تیاری شامل تھی۔ یہ سب وہ چیزیں تھیں جو اس وقت بنايی کی واحد آرزو تھیں۔
سنہ 2001 میں احمد شاہ مسعود کو دو عرب خودکش بمباروں نے قتل کر دیا۔ وہ صحافیوں کے بھیس میں انٹرویو کے بہانے ان تک پہنچے تھے۔ بنايی کے ایک رشتہ دار طالبان کے ایک گروہ کی قیادت کر رہے تھے اور مولوی نورالله نوری کی نگرانی میں کام کر رہے تھے، جو اس وقت وردک کے گورنر تھے۔
بنايی نے نورالله نوري سے اپنے گاؤں میں ملاقات بھی کی تھی اور ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کے ماتحت کام کریں اور ان کے احکامات پر عمل کریں۔
نوری کو سنہ 2001 میں شمالی افغانستان میں گرفتار کر لیا گیا اور 12 سال گوانتانامو جیل میں گزارنے کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں رہا کیا گیا۔ آج وہ طالبان حکومت میں سرحدوں و قبائلی امور کے وزیر ہیں۔
میوند بنايی کہتے ہیں: ’میری واحد آرزو یہ تھی کہ میں شمالی علاقہ جات میں جاؤں اور جام شہادت نوش کروں۔‘ ان کے مطابق، ان کے اور ’فدائی‘ بننے کے درمیان زیادہ فاصلہ باقی نہیں رہا تھا۔
وہ طالبان کے اُس وقت کے نظریاتی اجتماعات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہم مولویوں سے پوچھتے تھے کہ اگر ہم اپنی جان قربان کریں اور شہید ہوں تو کیا سیدھا جنت میں جائیں گے؟ وہ کہتے، ہاں، اللہ کے کلمے کی بلندی کے لیے ایسا کرو۔‘
لیکن ایک اور سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملتا تھا: ’اگر ہم کسی مسلمان گروہ کے خلاف لڑیں، تو کیا وہ بھی جہاد کہلائے گا اور اس میں اگر ہماری موت ہو گئی تو کیا وہ شہادت ہو گی؟‘
سنہ 1994 سے سنہ 1999 کے درمیان بنايی افغانستان اور پاکستان کے درمیان آتے جاتے رہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ طالبان میں شامل ہونے کے بعد وہ پاکستان گئے تاکہ دارالعلوم حقانیہ میں داخل ہوں، لیکن وہاں نئے طالبان کے لیے جگہ نہیں تھی۔
لیکن پھر سنہ 1997 میں پشاور سے کابل واپسی پر رونما ہونے والے ایک واقعے نے ان کی سوچ کو بدلنا شروع کر دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ جلال آباد میں نماز کے بعد طالبان نے انھیں مجبور کیا کہ دوبارہ نماز پڑھیں: ’میں نے کہا میں نماز پڑھ چکا ہوں، لیکن انھوں نے بندوق کی نال میرے منہ پر رکھ کر دھمکایا۔ اس وقت میری عمر 17 سال تھی اور مجھے شدید ذلت اور بے عزتی کا احساس ہوا۔ میں نے سوچا، میں تم سے (طالبان) اتنی محبت کرتا ہوں، اور میرے ساتھ تمہارا سلوک یہ ہے؟‘
میوند بنايی مزید کہتے ہیں کہ انھوں نے طالبان کے بعض ارکان سے یہ سنا کہ وہ احمد شاہ مسعود کے زیر کنٹرول علاقوں میں کھیتوں میں لگی بارودی سرنگوں پر سے گدھوں کو گزارا کرتے تھے: ’میں نے کہا، یہ ظلم ہے، تمہیں جانوروں کے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ وہ بے گناہ ہیں۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘
کابل کے غازی سٹیڈیم میں انھوں نے طالبان کی جانب سے ’حدود کے نفاذ‘ کا منظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا: ’وہ ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا بھائی قتل ہوا تھا اور طالبان نے اسے بندوق دی کہ وہ اپنے بھائی کے قاتل کو مار دے۔‘
’یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے شک کرنا شروع کیا کہ اگر یہ لوگ اسلام کی نمائندگی کر رہے ہیں، تو پھر یہ اتنے ظلم کیوں کرتے ہیں؟‘
بنايی نے اپنی اصلاح کیسے کی؟
شمشتو کیمپ میں پاکستانی پولیس اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔
یہ افواہیں بھی پھیل گئی تھیں کہ پولیس کیمپ پر چھاپہ مارنے والی ہے، اسی لیے بنايی نے شمشتو سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔
پھر سنہ 2000 میں انھوں نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کے بقول 2003 میں دبئی اور روس کے راستے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچے، لیکن اسی سال وہاں ان کی پناہ کی درخواست مسترد ہوگئی۔
بنايی کہتے ہیں کہ پولیس انھیں گرفتار کرنے کے لیے ویلز کے دارالحکومت کارڈف میں ان کی رہائش تک پہنچی، مگر وہ بستر کے نیچے چھپ گئے اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔
انھوں نے سنہ 2005 تک برطانیہ میں غیر قانونی اور خفیہ زندگی گزاری۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران وہ کبھی کسی ٹیلی فون بوتھ میں اور کبھی سڑک کے کنارے سو جاتے تھے، لیکن پھر وہ آئرلینڈ چلے گئے۔
ان کے مطابق، کچھ عرصے تک محبت کے رشتے میں رہنے کے بعد انھوں نے سنہ 2006 میں ایک آئرش خاتون سے شادی کر لی اور پھر 16 برس ساتھ رہنے کے بعد ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔
فی الحال ان دونوں کی ایک 17 سالہ بیٹی ہے جو آئرلینڈ کے ایک سکول میں پڑھتی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے۔
آئرلینڈ میں اقامت کی اجازت ملنے کے بعد، میوند بنايی نے سنہ 2006 میں کارلو یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
وہ اس وقت برطانیہ کی کووینٹری یونیورسٹی میں فزیوتھراپی اور لیڈرشپ میں ماسٹرز کے آخری سال کے طالب علم ہیں اور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) میں ذیابیطس سے صحت یاب ہونے والوں کے ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
بنايی نے بی بی سی کو بتایا: ’اس زمانے میں (تین دہائیوں سے زیادہ پہلے) میں ہمیشہ جنت اور ایک بہتر دنیا کے خواب دیکھتا تھا اور اسے پانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار تھا، لیکن آج یہ سب کچھ میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے جو ہر رات مجھے ستاتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’میں نے ان کہانیوں کو چیلنج کیا جو ہمیں سکھائے گئی تھیں؛ جیسے کہ بچھو صرف کمیونسٹوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ یا یہ کہ جب ہوائی جہاز بمباری کے لیے آتے تو پرندے پہلے ہی مسلمانوں کو خبر دے دیتے ہیں۔ یا یہ کہ غیر مسلموں اور کمیونسٹوں کی لاشیں کتے کھاتے تھے، مگر مسلمانوں کی لاشیں نہیں کھاتے۔ یا یہ کہ شہیدوں کے جسم کبھی خراب نہیں ہوتے۔ یہ سب کہانیاں تھیں اور مولوی جھوٹ بولتے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ’ڈلیوژنس آف پیراڈائز۔۔۔‘ نامی کتاب اسی مقصد سے لکھی تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ بچوں اور نوجوانوں کو کس طرح شدت پسندی کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔
افغان معاشرے میں اپنے ماضی، خاص طور پر مذہبی انتہا پسندی، پر لکھنا عام نہیں ہے، لیکن بنايی نے یہ سب ایک کتاب کی شکل میں قلم بند کیا۔
بنايی کے مطابق، آج کے حالات میں جب دینی مدارس کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے، افغانستان میں لاکھوں بچے انتہا پسندی کی تعلیم کے خطرے سے دوچار ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت نے بی بی سی سے کہا تھا: ’افغانستان ایک مذہبی معاشرہ ہے اور ہر شخص کو ابتدائی اور اعلیٰ سطح پر دین اور مذہب سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔‘
بنايی مزید کہتے ہیں: ’اس کتاب کے ذریعے میں نوجوان مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ سوالات کرو۔ بغیر تجزیے کے کوئی لیکچر یا خطبہ قبول نہ کرو۔ تعلیم حاصل کرو، تحقیق کرو، تنقیدی سوچ اپناؤ۔‘
میوند بنايی شدت پسندی کو غربت اور جہالت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق: ’غربت، جذباتی تنہائی، جنسی محرومی اور تنقیدی سوچ کی کمی شدت پسندی کے دروازے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جو لوگ خودکش حملہ آور بنتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ وہ برے لوگ ہوں۔ وہ خود ایسے مظلوم ہیں جنھیں اپنی زندگی بدلنے کا موقع نہیں ملا۔‘