یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے اپنے عارضی طور پر گراؤنڈ کیے جانے والے ہزاروں ائیر بس طیاروں کی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بعداب ان جہازوں کی معمول کی سروس دوبارہ بحال کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے اپنے عارضی طور پر گراؤنڈ کیے جانے والے ہزاروں ائیر بس طیاروں کی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے بعداب ان جہازوں کی معمول کی سروس دوبارہ بحال کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
فرانس کی ایئروسپیس کمپنی ایئر بس کے مطابق اس کے تقریباً 6,000 اے 320 طیارے اس مسئلے سے متاثر ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر کو صرف ایک مختصر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی ضرورت تھی۔ تاہم انھوں نے آگاہ کیا کہ انھیں تقریباً 900 پرانے طیاروں میں کمپیوٹرز کو تبدیل کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس کے ہزاروں اے 320 طیاروں کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے دُنیا بھر میں درجنوں ایئر لائنز کی پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
ایئر بس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہطیاروں کی اپ ڈیٹس کو زیادہ سے زیادہ تیزی سے مکمل کرنے‘ کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
ایئر بسنے اس دوران مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت بھی کی ہے۔
یاد رہے کہ ایئربس کو اس مسئلے کا علم اس وقت ہوا تھا جب اکتوبر میں امریکا اور میکسیکو کے درمیان پرواز کرنے والا جیٹ بلیو ایئر ویز کا ایک طیارہ اچانک اونچائی کھو بیٹھا اور ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔
کمپنی نے طیارے کے کمپیوٹنگ سافٹ ویئر میں مسئلہ شناخت کیا جو طیارے کی بلندی کا حساب لگاتا ہے، اور یہ بھی پایا کہ زیادہ اونچائی پر سورج سے وقتاً فوقتاً خارج ہونے والی شدید شعاعیں ڈیٹا کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اے 320 کے علاوہ، جو کمپنی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا طیارہ ہے، اے 318، اے 319 اور اے 321 ماڈلز بھی اس مسئلے سے متاثر ہوئے۔
پرانے طیارے جنھیں نئے کمپیوٹرز درکار ہیں وہ تاحال گراؤنڈ ہیں۔ ان کی تبدیلی میں کتنا وقت لگے گا، اس کا انحصار کمپیوٹرز کی دستیابی پر ہو گا۔
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے بھی اے 320 طیارے استعمال کرتی ہے، جس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئر بس نے سافٹ ویئر ورژن 104 کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں یہ ورژن لوڈڈ نہیں لہٰذا ہمارے تمام طیارے محفوظ ہیں۔
یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے ہدایت کی تھیکہ اس مسئلے کے حل تک تمام اے 320 طیاروں کی پروازیں روک دی جائیں۔
یاد رہے کہ یہ مسئلہ اکتوبر میں میکسیکو سے امریکہ جانے والے جیٹ بلیو کی پرواز کی ’اونچائی میں اچانک کمی‘ کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس واقعے میں کچھ مسافر زخمی بھی ہو گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ شدید شمسی تابکاری کی وجہ سے ہوا جس نے ہوائی جہاز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر میں موجود ڈیٹا کو نقصان پہنچایا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی چار ایئر لائنز امریکن، ڈیلٹا، جیٹ بلیو اوریونائیٹڈ ایئر لائنز بھی ایئر بس اے 320 طیارے استعمال کرتی ہیں اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ایئر بس کے اس اعلان کے بعد ہزاروں پروازوں کی منسوخی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

کن ممالک میں فلائٹ آپریشن متاثر ہوا
ایئر بس کی جانب سے طیاروں کو گراؤنڈ کیے جانے کے اعلان کے بعد سنیچر کی صبح پیرس سے آنے اور جانے والی ایئر فرانس کی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کر دی گئیں۔
امریکن ایئر لائنز نے کہا کہ انھیں آپریشنل تاخیر کی توقع ہے تاہم ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اپ ڈیٹس کا بیشتر کام سنیچر کو مکمل کر لیا جائے گا جبکہ ڈیلٹا ایئر لائنز نے کہا کہ ان کے فلائیٹ آپریشنز پر اس مسئلے کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہناہے کہ ملک میں کام کرنے والی ایئر لائنز نے رات بھر کمپیوٹر کی اپ ڈیٹس پر کام کیا اور فضائی ٹریفک بری طرح متاثر نہیں ہوا۔
لندن کے گیٹوک ایئرپورٹ نے فضائی آپریشن میں’کچھ خلل‘ آنے کی تصدیق کی جبکہ ہیتھرو ایئرپورٹ نے کہا کہ وہاں کسی قسم کی پرواز منسوخ نہیں کی گئیں۔
مانچسٹر ایئرپورٹ نے کہا کہ انھیںکسی بڑے مسئلے کی توقع نہیں ہے، جبکہ لوٹن ایئرپورٹ کا کہنا تھا کہ ’ان کے فلائیٹ اپریشن پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘
خیال کیا جا رہا ہے کہ برٹش ایئرویز اور ایئر انڈیا اس مسئلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئیں۔
سنیچرکے روز ایزی جیٹ نےاپنے طیاروں کی ’ایک نمایاں تعداد‘ کی اپ ڈیٹ مکمل کرنے کا دعویٰ کیااور کہا کہ وہ معمول کے مطابق آپریشن کا ارادہ رکھتی ہے۔
آسٹریلیا کیبجٹ ایئر لائن جیٹ سٹار نے 90 پروازیں منسوخ کر دیں۔ اس کے زیادہ تر طیاروں پر اب اپ ڈیٹ مکمل ہو چکی ہے، تاہم ویک اینڈ کے دوران کچھ پروازوں میں اب بھی خلل کا امکان باقی ہے۔
ایئر نیوزی لینڈ نے اپنے اے 320 طیارے عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیے تھے، لیکن اپ ڈیٹ مکمل ہونے کے بعد اب تمام پروازیں دوبارہ بحال ہو گئی ہیں۔
ایئربس کے اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں کئی ایئر لائنز نے ممکنہ سروس میں خلل کا اعلان کیا تھا ، جن میں امریکن ایئر لائنز، ڈیلٹا، ایئر انڈیا اور وِز ایئر شامل تھیں۔
امریکن ایئر لائنز کا کہنا تھا کہ اس کے 340 طیارے متاثر ہوئے تاہمانھیں امید ہے کہ اپ ڈیٹس سنیچر یا اتوار تک مکمل ہو جائے گی۔
ایئر انڈیا کا بھی کہنا ہے کہ ایئربس کی ہدایات سے ’ہمارے طے شدہ آپریشنز میں طویل تبدیلی اور تاخیر ہو سکتی ہے.‘
ویز ایئر نے اس ہفتے کے آخر میں پرواز کرنے والے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں اپ ڈیٹ کے نتیجے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جاپان کی آل نپون ایئرویز (اے این اے) نے سنیچر کو 65 پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار تھیو لیگیٹ کے مطابقدُنیا بھر میں چھہزار اے 320 طیارے متاثر ہو سکتے ہیں، جو ایئر بس کے عالمی بیڑے کا نصف ہیں اور یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
اُن کے مطابق زیادہ تر طیاروں میں نیا کمپویٹر سافٹ ویئر انسٹال کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن پرانے ماڈل کے لگ بھگ 900 اے 320 طیاروں میں کمپویٹر تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی اور اُس وقت تک یہ گراؤنڈ رہیں گے۔ اس میں کتنا وقت لگے گا اس کا انحصار کمپیوٹرز کی دستیابی پر ہو گا۔
ہم نے لندن کے دو سب سے بڑے ہوائی اڈوں، ہیتھرو اور گیٹ وِک کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ہیتھرو ایئر پورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے اس کے آپریشنز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ گیٹ وک میں کچھ خلل کا امکان ہے۔
برطانیہ کے ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی ایئر لائنز پر اس کا اثر محدود پیمانے پر ہو گا لیکن ویک اینڈ میں پرواز کرنے والے مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مزید معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

شمسی تابکاری ہوائی جہاز کے الیکٹرانکس کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟
آسٹریلیا کی کنٹاس ایئر لائنز کے سابق پائلٹ ڈاکٹر ایان گیٹلی کہتے ہیں کہ پروازیں کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ اُس وقت ہوتا ہے جب سورج کی بیرونی سطح (کرونا) سے انتہائی گرم برقی گیسز (پلازما) کا اخراج ہوتا ہے اور یہ اوپری فضا میں زیادہ چارج شدہ ذرات پیدا کرتے ہیں جو ہوائی جہاز کے الیکٹرانکس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
اُن کے بقول سی ایم ای کی شدت جتنی زیادہ ہو گی، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ سیٹلائٹس اور 28 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے الیکٹرانکس نظام میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے خود اُس صورتحال کا سنہ 2003 میں اس کا سامنا کیا جب وہ لاس اینجلس سے نیویارک کی جانب جانے والی پرواز کے پائلٹ تھے۔
ڈاکٹر ایان گیٹلی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اُنھوں نے اس کی تحقیق کا فیصلہ کیا۔

ایئر بس اے 320 طیارہ
ایئر بس اے 320 کو دنیا بھر کی ایئر لائنز کے لیے ’سب سے پسندیدہ طیارہ‘ قرار دیتی ہے۔
یہ طیارے 47 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتے ہیں اور ان میں 120 سے 244 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
ایئر بس کے مطابق ان طیاروں میں 50 فیصد (سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول) استعمال ہوتا ہے اور 2030 تک یہ 100 فیصد اس پر منتقل ہو جائے گا۔
توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے بننے والا سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول کاربن کے اخراج کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
طیارے میں دو جدید ترین ٹربو فین انجنز ہوتے ہیں جو اس کے سابقہ ماڈلز کے مقابلے میں 20 فیصد کم ایندھن استعمال کرتے ہیں۔