ٹی وی ڈرامے کیس نمبر 9 میں کمرہِ عدالت شاندار ضرور ہے لیکن جرح کے دوران ملزم کے وکیلِ صفائی کے تمام سوالات، انداز اور اشارے وہی ہیں جو عموماً اصل زندگی میں متاثرہ خواتین کو کمرہ عدالت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
ریپ سے متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت میں اُن سے پوچھا گیا کہ جسم پر کہاں نشان ہیں؟ یہاں تک کے گواہوں سے بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ نے نشان دیکھے ہیں؟’کیا اوقات ہے سحر کی کہ وہ مجھے انکار کرے۔ فلرٹ کرنے، غصہ کرنے اور ریپ کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ سحر طلاق یافتہ ہیں، ورجن (کنواری) نہیں ہیں۔‘
اس جملے پر سحر کی وکیل جواب دیتی ہیں کہ ملزم کامران اور اُن کے وکیل تمام طلاق یافتہ خواتین کے کردار پر سوال اٹھا رہے اور وہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جو عموماً متاثرہ خاتون کو ریپ کیسز میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ مناظر ریپ کے ایک کیس پر بننے والے ٹی وی ڈرامہ ’کیس نمبر 9‘ کے ہیں۔ جیو انٹرنیمنٹ پر نشر ہونے والے اس ڈرامے میں ایک کمرہ عدالت میں ریپ کیس پر جرح ہو رہی ہے۔
ڈرامے میں متاثرہ خاتون سحر کی وکیل سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئی کہتی ہیں کہ ’متاثرہ شخص کے کردار یا ورجن ہونے یا نہ ہونے پر سوال اُٹھانے سے اس بات کا تعین نہیں ہوتا کہ اُس کا ریپ نہیں کیا گیا۔ بلکہ ایسا کرنے سے ملزم کے بجائے ریپ سے متاثرہ شخص کا ہی ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی انسان کا کئی لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق بھی ہو، تب بھی وہ ریپ کا مستحق نہیں ہوتا۔‘
جس کے جواب میں ملزم کامران کے وکیل کہتے ہیں کہ یہاں ایک معصوم مرد پر ریپ جیسے گھناؤنے جرم کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تو پھر سحر کے کردار پر سوال تو اٹھیں گے۔
ڈرامے میں کمرہِ عدالت شاندار ضرور ہے لیکن جرح کے دوران ملزم کامران کے وکیلِ صفائی کے تمام سوالات، انداز اور اشارے وہی ہیں جو عموماً اصل زندگی میں متاثرہ خواتین کو کمرہ عدالت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
اس ڈرامے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور بعض افراد نے اس ڈرامے کے ذریعے فراہم کی گئی معلومات کو اہم قرار دیا تو بعض کے خیال میں دورانِ جرح سخت سوالات کرنا پاکستان میں عدالتی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
ریپ کے مقدمات اور پاکستان کا عدالتی نظام
چلیں اب ڈرامے میں دکھائی جانی والی عدالت کے بعد اصل عدالت چلتے ہیں جس کی راہداریاں کھچا کچھ بھری ہوئی ہیں اور چھوٹے سے کمرہ عدالت میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔
حقیقی زندگی میں بھی ریپ کا شکار ہونے والیکسی بھی خاتون کو کمرہ عدالت کے اندر اور باہر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مہوش (فرضی نام) ریپ کا شکار ہوئی ہیں اور اُن کا مقدمہ فی الوقت پاکستان کی ایک عدالتِ میں زیر سماعت ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران انھیں کئی بار بہت عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ مردوں سے بھری عدالت میں اُن سے وہ سوالات کیے گئے جس نے انھیں مزید تکلیف میں مبتلا کیا۔
مہوش نے بتایا کہ ’مرد وکیل بہت بے عزت کرتے ہیں، اِتنے بہیودہ سوال کرتے ہیں کہ انسان شرمندہ ہو جائے، جیسا کہ شلوار کس نے اُتاری اور قمیض کس نے اُتاری۔۔۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ریپ کیس ہے آپ یہ سب کیسے پوچھ سکتے ہیں۔ ویسے ہی انسان پریشان ہوتا ہے کہ ہماری عزت جا چکی ہے اور سوال پوچھ کر مزید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔‘
ایڈوکیٹ فرح خان ریپ کے مقدمات میں استغاثہ یا متاثرہ خواتین کی وکیل کے طور پرعدالت میں پیش ہوتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ عدالت میں ریپ کی شکار ہونے خواتین کے کردار، اُن کے ماضی اور ریپ جیسے واقعات کے بارے میں ملزم کے وکیل کے سوالات متاثرہ خواتین کو مزید دباؤ میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
ایڈوکیٹ فرح خان نے بتایا کہ زیادہ تر وکیلِ صفائی ان سوالات کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ متاثرہ خاتون ایک خراب کردار کی مالک ہیں اور یہ کہ اُن کے مؤکل پر جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
تعلیم کی کمی، پسماندگی اور پدر شاہی مزاج رکھنے والے معاشرے میں خواتین کو عموماً مردوں سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میں پاکستان عالمی صنفی فرق کی درجہ بندی میں 146 ممالک کی فہرست میں 145 نمبر پر ہے۔
پاکستان میں جہاں صنف کی بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے وہیں خواتین کے خلاف غیرت کے نام پر قتل، جنسی تشدد اور ریپ جیسے جرائم کی شرح زیادہ ہے۔
پاکستان میں ریپ کیسز رپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ریپ ایک ایسا جرم ہے جس میں ملزم جرم کے ذریعے اپنی برتری یا تسلط ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میںپاکستان میں 4175 ریپ کیسز اور 733 گینگ ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں انسدادِ ریپ ایکٹ 2023 منظور کیا ہے جس میں ریپ سے متاثرہ شخص کو سرکاری وکیل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی ریپ کے مقدمے کی سماعت چار ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
قانون میں وضاحت کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ ’مرضی‘ کا کیا مطلب ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس، وکلا اور عدالت اکثر متاثرہ خواتین کے احساسات اور جذبات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔
فرح کا کہنا ہے کہ ریپ کی شکار خواتین کے لیے ٹراما اُس وقت ہی شروع ہو جاتا ہے جبایف آر درج کروانے کے بعد سرکاری ہسپتال میں اُن کا میڈیکل ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ میڈیکل لیگل آفسر کے پاس ریپ ٹیسٹ کے لیے ایک مکمل میڈیکل کٹ ہوتی ہے جس میں وجائنا سمیت جسم کے مختلف حصوں سے سویپ لیے جاتے ہیں اور جسم کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ ہوتا ہے، جو عموماً ٹراما کا شکار خواتین کے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔
فرح خان کے مطابق پھر یہی میڈیکل رپورٹ جب سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوتی ہے تو وکیلِ صفائی جرح کے دوران متاثرہ خاتون سے ایسے سوالات کرتے ہیں جیسے کہ ریپ کو دہرایا جا رہا ہو، جو متاثرہ خواتین کے لیے تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ طبی رپورٹ کے بعد متاثرہ خاتون کے کپڑے جب بطور ثبوت عدالت میں لائے جاتے ہیں تو وکیلِ صفائی اُن کپڑوں اور انڈر گارمنٹس کو عدالت میں دِکھا دِکھا کر متاثرہ شخص سے سوالات پوچھتے ہیں۔
فرح نے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک متاثرہ خاتون طبی معائنے کے لیے ہسپتال گئیں تو انھیںماہواری آ رہی تھی، جس پر ڈاکٹر نے انھیں کچھ دن کے بعد معائنے کے لیے بلایا۔
انھوں نے بتایا کہ ’عدالت میں جب میڈیکل رپورٹ جمع ہوئی تو وکیلِ صفائی نے متاثرہ خاتون سے پوچھا کہ ریپ کے وقت آپ کو ماہواری ہو رہی تھی تو پھر پریڈز کے دوران انٹر کورس کیسے ہوا؟ اور جب آپ کا ریپ ہوا تو ماہواری کا کون سا دن چل رہا تھا؟‘
فرح کے بقول ریپ ایک گھناؤنا جرم ہے اور ریپ کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ خاتون کو ماہواری ہو رہی ہے یا نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اسی طرح ایک اور کیس میں متاثرہ خاتون سے وکیل نے پوچھا کہ ’کیا ریپ کے دوران انھیں جذباتی تسکین محسوس ہو رہی تھی؟‘
فرح کے بقول ’وکیلِ صفائی کی کوشش ہوتی ہے کہ متاثرہ خاتون کو کنفیوز کر کے ان کی ساکھ متاثر کی جائے اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ وہ ریپ کا جھوٹا الزام عائد کر رہی ہیں۔‘
ہیومن رائٹس کمشین آف پاکستان کا کہنا ہے سال 2024 میں4175 ریپ کیسز اور 733 گینگ ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے۔وکیلِ صفائی کے متاثرہ خاتون سے اُن کے ماضی،کردار اور ریپ کے بارے میں ’پریشان کن‘ سوالات
انسدادِ ریپ ایکٹ 2023 کے قواعد و ضوابط کے رول نمبر سات میں کہا گیا ہے کہ ریپ کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سماعت کے دوران متاثرہ شخص کو تحفظ فراہم کریں اور خاص کر جرح کے دوران خاتون کے ماضی، کردار اور عمر کے بارے میں متنازع اور توہین کرنے کی نیت سے سوال نہ پوچھنے دیے جائیں۔
لیکن عدالت میں ایسا کم ہوتا ہے کیونکہ وکیلِ صفائی اپنے ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایڈوکیٹ محمد بلال رشید ریپ کے مقدمات میں بطور وکیلِ صفائی عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ریپ کے مقدمات میں ملزم کا وکیل وہی کچھ پوچھتا اور ثابت کرنا چاہتا ہے جو اسے ملزم بتاتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلال نے کہا کہ ’ریپ کے مقدمات میں بعض اوقات آپ متاثرہ شخص کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ریپ ہوا ہے یا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ بظاہر عدالت میں پیش کیے گئے شواہد جیسے میڈیکل رپورٹ، گواہوں کے بیان اور پولیس رپورٹکو دیکھتے ہوئے وکیلِ صفائی کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ سچ کیا ہے اور اُسی کی بنیاد پر وکیلِ صفائی اپنی حکمتِ عملی بناتے ہیں۔
وکیلِ صفائی بلال رشید نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ تنازع کوئی اور ہوتا ہے اور ریپ کا الزام لگ جاتا ہے اورہمدردی کے لیےسب خواتین کے ساتھ ہو جاتے ہیں، ایسے میں مرد کے پاس کچھ نہیں رہتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وکیلِ صفائی کا کام ہی اپنے موکل کے حق میں جج کی رائے بہتر کرنا ہے۔
’جرح کے دوران قانون شہادت پر سوال پوچھنے کی اجازت دیتا ہے‘
ریپ کے مقدمے کی سماعت کے دوران وکیلِ صفائی کی جانب سے متاثرہ خاتون سے سخت سوالات کے بارے میں وکیل محمد بلال رشید نے کہا کہ پاکستان میں قانونِ شہادت انھیں جرح کے دوران ہر طرح کا سوال کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ ’اگر کسی متاثرہ خاتون کا کردار بہت اچھا نہیں ہے تو پھر وکیل کواس کے کردار، اُس کے ماضیکے بارے میں سوال پوچھنے کا حق ہے۔‘
بلال رشید نے واضح کیا کہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں درج کروایا گیا ثبوت ہے اور وکیل صفائی اُس کے حوالے سے متاثرہ خاتون سے سوالات پوچھ سکتے ہیں۔
وکیلِ صفائی بلال رشید کے مطابق تعزیراتِ پاکستان اور قانون شہادت وہ بنیادی قوانین ہیں جس پر پاکستان کا عدالتی نظام کھڑا ہے اور اسی قانون کے تحت وکیلِ صفائی کو یہ اختیار ہے کہ وہ متاثرہ شخص سے سچ نکلوانے کے لیے کوئی بھی سوال کر سکتا ہے۔
بقول بلال رشید کہ ’وکیلِ صفائی کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ لیڈنگ سوال کرے اور اپنے الفاظمتاثرہ شخص سےادا کروائے۔‘
انھوں نے کہا کہ انسدادِ ریپ ایکٹ ضرور بن گیا ہے لیکن ان سارے قوانین کی بنیاد تعزیراتِ پاکستان ہے اور کوئی بھی فوجداری قانون اُس سے انحراف نہیں کر سکتی ہے۔
ریپ سے متاثرہ خاتون مہوش نے بی بی سی کو بتایا کہ جب عدالت میں اُن سے ایسے سوال کیے گئے تو وہ بہت پریشان ہوئیں ’جج صاحب نے وکیل کو کہا کہ کچھ لحاظ کر لیں، لیکن پھر یہ پوچھا گیا کہ جسم پر کہاں نشان ہیں۔ یہاں تک کے گواہوں سے بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ نے نشان دیکھے ہیں۔‘
انسانی حقوق کے کارکنان، وکلا اور غیر سرکاری تنظیموں کا ماننا ہے کہ انسدادِ ریپ ایکٹ کے تحت ریپ سے متاثرہ شخص کو کافی سہولیات دی گئی ہیں جسےمتاثرہ شخص اپنی شناخت کو مخفی رکھ سکتا ہے، اُسے سرکاری وکیل دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ریپ کیس اب رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ایڈوکیٹ فرح خان کا کہنا ہے کہ انسدادِ ریپ قانون کے بعد سے عدالت کی نظر میں متاثرہ شخص کا تاثر اب بدل گیا ہے جبکہ قانون نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تشریح سے عدالت کے لیے بہت سے اصطلاحات واضح ہو گئی ہیں۔