نورین خان کے انڈین میڈیا کو انٹرویوز اور ’آپریشن سندور ٹو‘ کی بازگشت: وائرل کلپ کی حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر نورین خان کے انٹرویو کا ایک مبینہ کلپ بھی زیر گردش ہے جس میں وہ مبینہ طور پر کہہ رہی ہیں کہ اگر وزیرِ اعظم مودی آپریشن سندور ٹو کریں گے تو ہی عمران خان جیل سے باہر نکل سکتے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین خان کے انڈین میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز کا ایک وائرل کلپ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اس ویڈیو میں کی گئی گفتگو کو مسلم لیگ ن کے بعض رہنما پاکستان سے دُشمنی قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ یہ ’جعلی‘ اور اے آئی سے تیار کردہ ہے۔

سوشل میڈیا پر نورین خان کے انٹرویو کا جو کلپ وائرل ہے اس میں وہ مبینہ طور پر کہہ رہی ہیں کہ اگر وزیرِ اعظم مودی آپریشن سندور ٹو کریں گے تو ہی عمران خان جیل سے باہر نکل سکتے ہیں۔

بی بی سی نے نورین خان کے انڈین چینلز کو دیے گئے انٹرویوز کا مکمل جائزہ لیا ہے اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے کسی بھی انٹرویو میں وزیراعظم مودی یا آپریشن سندور سے متعلق کوئی بات نہیں کہی اور مذکورہ کلپ اے آئی کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

یادرہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی ویڈیو کو تبدیل کیا گیا ہو۔ پاکستان میں حالیہ عرصے میں اے آئی کے ذریعے فیک ویڈیوز بنا کر سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

ایسی ویڈیوز میں سیاست دانوں کی جعلی تقاریر، بیانات یا حرکات کو اس حد تک حقیقت کے قریب دکھایا جاتا ہے کہ اس سے ایسے سکینڈلز اور تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہ ہو۔

اس ٹیکنالوجی سے سب سے بڑا خطرہ صرف یہی نہیں کہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ جب عوام کو معلوم ہو جائے کہ ویڈیوز جعلی ہو سکتی ہیں تو پھر اصل فوٹیج اور سچائی پر بھی شک پیدا ہونے لگتا ہے۔ یوں سچ اور جھوٹ کی لکیر دھندلا جاتی ہے اور اس کا اثر جمہوریت، سیاست دانوں پر اعتماد اور میڈیا کی ساکھ۔۔۔ سب پر پڑتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے آڈیوز یا ویڈیوز میں کیسے ردوبدل کیا جاتا ہے اور اس کی شناخت کیسے ممکن ہے؟ یہ ہم آپ کو آگے چل کر بتائیں گے۔

لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی اور مسلم لیگ ن کے حمایتی دیگر اکاؤنٹس کی جانب سے بھی یہ کلپ شیئر کیا جا رہا ہے اور نورین خان پر تنقید جاری ہے۔

بی بی سی نے اس معاملے پر عمران خان کی بہن نورین خان سے ان کا مؤقف لینے کی بارہا کوشش کی تاہم تادمِ تحریر اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

getty
Getty Images

تاہم تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے اس ویڈیو کو فیک قرار دیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ’ُآپریشن سندور سے متعلق نورین خان کا کلپ جعلی ہے اور کوئی بچہ بھی یہ بتا سکتا ہے۔‘

تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے اس کلپ کو جعلی اور آرٹیفیشل انٹیلی سے بنی ہوئی ویڈیو قرار دیتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ کیا عابد شیر علی کے خلاف بھی پیکا ایکٹ حرکت میں آئے گا؟

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت بسرا نے نورین خان کے انٹرویو کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ اگر عمران خان کی بہن کے انڈین میڈیا کو دیے گئے انٹرویو پر اعتراض ہو رہا ہے تو اُنھیں پاکستانی چینلز پر بات کرنے کا موقع دے دیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بہن ہونے کے ناطے نورین خان نے اپنے بھائی کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے، ان کا مقصد سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا نہیں ہے۔

نورین خان نے اپنے انٹرویوز میں کیا کہا؟

بی بی سی نےنورین خان کے انڈین میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز کا جائزہ لیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اُنھوں نے کسی انٹرویو میں وزیراعظم مودی یا آپریشن سندور سے متعلق کوئی بات نہیں کی ہے۔

نورین خان نے انڈین نشریاتی اداروں ٹائمز آف انڈیا، انڈیا ٹو ڈے اور اے این آئی کو انٹرویوز میں عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ’قید تنہائی‘ میں رکھا گیا ہے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کے معاملے پر عوام کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ یہ کسی کے بھی قابو میں نہ رہیں۔

نورین خان نے پاکستان کی حکومت اور فوجی قیادت پر بھی تنقید کی ہے۔

نورین خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے اہلخانہ کو اُن کی صحت سے متعلق مکمل طور پر بے خبر رکھا جا رہا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ جیل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔

اس سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’انھیں (حکمرانوں کو) یقینی طور پر پاکستانی قوم کے غصے سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔ ہمارے خاندان اور قانونی ٹیم نے عمران خان سے آخری بار 16 اکتوبر کو ملاقات کی، جو ان اور بشریٰ بی بی کے جیل مقدمے کا آخری دن تھا۔ اس کے بعد سے صرف ہماری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ان سے دو بار 28 اکتوبر اور چار نومبر کو ۔۔۔ تقریباً 20 منٹ کے لیے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

خیال رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے سما نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ تھا کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں بالکل خیریت سے ہیں۔

پنجاب حکومت نے بھی عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے کی خبروں کی تردید کی تھی۔

پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے بتایا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں اور انھیں جیل سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کی باتیں بالکل فضول ہیں۔

عمران خان، اڈیالہ جیل
Getty Images

اے آئی سے بنی ویڈیو اور آڈیو کا کیسے پتہ چل سکتا ہے؟

آج کل سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا اے ائی) کی مدد سے بنائی جانے والی ویڈیوز کی بھرمار ہو چکی ہے جس کی وجہ سے لوگ اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ایسی جعلی ویڈیوز کو کیسے پہچانیں کہ کون سی ویڈیو یا مواد ای آئی کی مدد سے بنایا گیا ہے؟

اگر آپ ایک ایسی ویڈیو دیکھتے ہیں جس کی کوالٹی خراب ہے، فوٹیج بھی دھندلی ہے تو آپ کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی چاہییں کہ آپ ایک اے آئی ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ہینی فرید کہتے ہیں ’یہ پہلی چیز ہے جس پر ہم نظر ڈالتے ہیں۔‘

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اے آئی ویڈیو ٹولز اور بھی بہتر ہوجائیں گے اور یہ مشورہ بھی جلد ہی بیکار ہو جائے گا۔

فرید کہتے ہیں کہ ’تین چیزیں ہیں جنھیں تلاش کرنا ضروری ہے: ریزولوشن ، معیار اور دورانیہ۔‘

دورانیہ دیکھنا سب سے آسان ہے۔ ’زیادہ تر اے آئی ویڈیوز بہت مختصر ہیں، یہاں تک کہ عام ویڈیوز سے بھی چھوٹی ہیں جو ہم ٹک ٹاک یا انسٹاگرام پر دیکھتے ہیں جو تقریبا 30 سے 60 سیکنڈ ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ مجھے جن ویڈیوز کی تصدیق کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ان کی اکثریت چھ ، آٹھ یا 10 سیکنڈ لمبی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اے آئی ویڈیوز تیار کرنا مہنگا ہوتا ہے، لہٰذا زیادہ تر ٹولز مختصر کلپس بناتے ہیں۔

اس کے علاوہ ویڈیو جتنی لمبی ہوگی اے آئی کی گڑبڑ کا امکان اتنا ہی زیادہ ہے۔

آپ ایک سے زیادہ اے آئی ویڈیوز کو ایک ساتھ جوڑ سکتے ہیں لیکن آپ کو ہر آٹھ سیکنڈ یا اس سے زیادہ میں کٹ نظر آئے گا۔

دوسرے دو عوامل ریزولوشن اور معیار، ایک دوسرے سے وابستہ ہیں لیکن مختلف ہیں۔

عمران خان کی بہن کو انڈین میڈیا کو انٹرویو دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خیال رہے کہ گذشتہ کئی روز سے عمران خان کی صحت سے متعلق خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں۔

سوشل میڈیا پر عمران خان کے بارے جو افواہیں یا متضاد اطلاعات گردش کر رہی تھیں اُن میں زیادہ تر اکاؤنٹس ایسے ہیں جو بظاہر انڈیا یا افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر عمران خان کی جیل میں موت کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔

جس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمران خان کی صحت کے بارے میں وضاحت دیں اور ان افواہوں کی واضح الفاظ میں تردید کریں۔

لیکن اسی دوران عمران خان کی بہن نورین خان کی جانب سے مختلف انڈین چینلز کو انٹرویو دینے پر پاکستان میں بحث جاری ہے۔

حکومتی وزرا اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اسے پاکستان مخالف ایجنڈا قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس کا دفاع کر رہی ہے۔

صحافی فیضان لکھانی نے سوال اُٹھایا کہ عمران خان کی بہن 24 گھنٹوں کے دوران کئی انڈین چینلز کو انٹرویوز دے چکی ہیں۔

فیضان نے ایکس پر لکھا کہ ’سوال یہ ہے کہ آخر انڈین میڈیا عمران خان کے معاملے پر اتنی دلچسپی کیوں لینے لگا ہے۔ یہ عمران خان سے کوئی محبت کا اظہار نہیں ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور عمران خان کے اہلخانہ کو ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اُن کے الفاظ آگے چل کر کیسے استعمال ہو سکتے ہیں۔‘

اس حوالے سے شوکت بسرا کہتے ہیں کہ جب پاکستانی میڈیا چینلز عمران خان کی بہنوں کو پلیٹ فارم نہیں دیں گے تو پھر اُن کے پاس کیا آپشن ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنیں، پارٹی رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل کے باہر پڑاؤ ڈال چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت نے عمران خان کی صحت سے متعلق کوئی واضح بیان نہیں دیا۔

بی بی سی نے یہی سوال زلفی بخاری کو بھی بھیجا ہے تاہم انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

فیضان لکھانی کی پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے عزیر محمود نامی صارف نے ردعمل دیا کہ ’آپ کو اسٹیبلشمنٹ سے بھی مخاطب ہونا چاہیے کہ وہ عمران خان کے اہلخانہ کو اُن سے ملنے دیں۔ پاکستان میں ان کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا۔ ہر آئینی حق چھین لیا ہے۔‘

اس معاملے پر انڈین سیاست دان بھی بات کر رہے ہیں۔

انڈین کانگریس کے رہنما ششی تھرور کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن یہ بات یقینی طور پر تشویشناک ہے کہ اس معاملے پر اتنی خاموشی کیوں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک شخص کا معاملہ ہے جس کے پوری دُنیا میں کرکٹ فینز ہیں، اگر اُن کے ساتھ کچھ ہوا ہے تو حکومت کو اس پر وضاحت کرنی چاہیے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں جاری افواہوں کے درمیان، ان کی پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان ٹھیک ہیں اور اڈیالہ جیل میں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر خرم زیشان نے انڈین خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں اور وہ اڈیالہ جیل میں ہی ہیں۔

اُنھوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر اُن پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US