برطانیہ: دن میں جنک فوڈ کے ٹی وی اور آن لائن اشتہارات پر پابندی کا آغاز

image

برطانیہ میں دن کے اوقات میں جنک فوڈ کے ٹی وی اور آن لائن اشتہارات پر پابندی کا آغاز ہوگیا۔

اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے پیر کو نئے ضوابط نافذ کردیے گئے جن کے تحت دن کے اوقات میں نام نہاد جنک فوڈز کے ٹی وی اور آن لائن اشتہارات پر پابندی لگائی گئی ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق یہ بچوں میں موٹاپے کے رجحان میں تیزی سے اضافے کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم اقدام ہے۔ برطانوی وزارت صحت کے مطابق اشتہارات پر پابندی میں چکنائی، نمک یا چینی کی زیادہ مقدار والی مصنوعات کے اشتہارات کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس سے ہر سال بچوں کی خوراک سے 7.2 بلین کیلوریز کم ہونے کی توقع ہے۔

برطانوی وزارت صحت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ رات 9 بجے واٹرشیڈ سے پہلے اور کسی بھی وقت آن لائن نشر ہونے والے اشتہارات پر پابندی سے موٹاپے کا شکار بچوں کی تعداد میں 20,000 تک کمی اور محکمہ صحت کے اخراجات میں تقریباً 2 ارب پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔

اس اقدام کا اعلان سب سے پہلے دسمبر 2024 میں کیا گیا تھا۔ نئے ضوابط میں مقامی حکام کو اسکولوں کے باہر قائم فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بند کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

حکومت کا استدلال ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اشتہارات بچوں کے کھانے پینے کی ترجیحات کو تشکیل پر اثرانداز اور موٹاپے اور متعلقہ بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔

برطانوی حکومت کے مطابق ملک میں پرائمری اسکول کی تعلیم شروع کرنے والے بچے جن کی عمر عموماً پانچ سال ہوتی ہے وزن میں اضافے یا موٹاپے کا شکار ہیں، جب وہ 11 سال کی عمر کے سیکنڈری اسکولوں میں پہنچتے ہیں تو ان کا تناسب ایک تہائی سے بڑھ جاتا ہے۔

حکام کے مطابق، دانتوں کی خرابی برطانوی اسپتالوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کی سب سے بڑی وجہ ہے جن کی عمریں عام طور پر 5 سے 9 سال ہیں۔

وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے ایک بیان میں کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات اور آن لائن ادا شدہ اشتہارات پر پابندی لگا کر ہم غیر صحت بخش کھانے کی ضرورت سے زیادہ نمائش کو دور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ ریاست کی مالی اعانت سے چلنے والی نیشنل ہیلتھ سروس بیماری کی روک تھام کے ساتھ علاج پر بھی توجہ دے تاکہ لوگ صحت مند زندگی گزار سکیں۔

اوبیسٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے کہا کہ یہ بچوں کو غیر صحت بخش کھانے پینے کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب ایک خوش آئند اور طویل انتظار کا قدم ہے، جو ان کی صحت اور تندرستی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

چیریٹی ڈایا ببیٹیز یوکے نے بھی اشتہارات پر پابندی کا خیرمقدم کیا اس کی چیف ایگزیکٹو، کولٹی مارشل نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس بڑھ رہی ہے جس کے لیے موٹاپا بڑا خطرہ ہے اور یہ حالت نوجوانوں میں زیادہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، انہیں گردے کی خرابی اور دل کی بیماری جیسی سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US