امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا میں آئندہ 30 دن کے دوران انتخابات کرانا ممکن نہیں کیونکہ ملک کی موجودہ صورتحال اس کے لیے موزوں نہیں۔ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پہلے ملک کو درست حالت میں لانا ضروری ہے موجودہ حالات میں عوام ووٹ ڈالنے کے قابل نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا وینزویلا کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے بلکہ منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا کے توانائی کے شعبے کی بحالی کے لیے امریکی تیل کمپنیوں کو سبسڈی دے سکتا ہے جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو 18 ماہ سے کم عرصے میں مکمل ہو سکتی ہے تاہم اس پر بھاری اخراجات آئیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی افواج دارالحکومت کراکس سے حراست میں لے گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق وینزویلا سے متعلق امریکی مداخلت اور اقدامات کی نگرانی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد وینزویلا کی سیاسی صورتحال اور مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش اور بحث جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز سے ان ممالک کو تیل کی سپلائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے جنہیں امریکا اپنا مخالف سمجھتا ہے۔
تاس نے امریکی میڈیا کمپنی پولیٹیکو کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام نے ڈیلسی روڈریگز کو بتایا ہے کہ وہ ان کی طرف سے کم از کم تین اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں جن میں منشیات کی فراہمی کے خلاف کریک ڈاؤن، ایران، کیوبا اور واشنگٹن کے دشمن ممالک یا نیٹ ورکس کے دیگر ارکان کو ملک بدر کرنا اور امریکا کے مخالفین کو تیل کی فروخت روکنا شامل ہیں۔
امریکا یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ وینزویلا کی عبوری صدر روڈریگز آخرکار آزاد انتخابات میں سہولت فراہم کریں گی اور اس کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں گی۔