ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے نیٹو کے کسی رکن ملک کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور سب کچھ رک جائے گا۔ ایک انٹرویو میں وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی نیٹو ملک پر حملہ پورے اتحاد کے لیے ناقابلِ قبول ہوگا۔
یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا گیا کہ اگر امریکا کسی نیٹو رکن کے خلاف فوجی کارروائی کرے تو اس کا کیا مطلب ہوگا۔میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کردیا ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں اس خیال کو بارہا مسترد کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ امریکا کا حصہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی صدر کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے تاہم یورپ اس بات پر متفق ہے کہ سرحدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔یورپی رہنماؤں نے بھی ڈنمارک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کی جا سکتیں جبکہ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ گرین لینڈ کا مستقبل ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام ہی طے کریں گے۔
جرمن وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کا حصہ ہونے کے باعث نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصولوں کے تحت آتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا کو یقینی طور پر گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈینش وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کو ضم کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے حوالے سے بیانات نے واشنگٹن اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔