وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا جس میں مہنگائی کے رجحانات، اشیائے ضروریہ کی دستیابی، قیمتوں کے استحکام اور بالخصوص رمضان المبارک سے قبل غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے چیف اسٹیٹسٹیشن، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اسلام آباد انتظامیہ، صوبائی حکومتوں اور سٹیٹ بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔پاکستان بیورو آف شماریات نے مہنگائی کی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد رہنے والی ہیڈ لائن مہنگائی دسمبر 2025 میں بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی۔
سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات گیس کے نرخ، سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور گندم، دودھ اور چکن کی قیمتوں میں اضافہ رہیں۔ اس کے برعکس آلو، ٹماٹر، پیاز، چائے، دالیں، بجلی اور اسٹیشنری سمیت متعدد اشیا کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔پی بی ایس نے ڈسیژن سپورٹ سسٹم آن انفلیشن (DSSI) کے تحت ڈیٹا پیش کیا جس کے مطابق ضروری غذائی اشیا کی قیمتوں میں استحکام بہتر ہوا ہے۔
2024 اور 2025 کے تقابلی جائزے میں بتایا گیا کہ پیاز اور آلو جیسی روزمرہ اشیا موجودہ دور میں نسبتا کم قیمت پر رہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 20 کلو گرام آٹے کا تھیلا تقریبا 1800 روپے سے بڑھ کر 2146 روپے ہوا۔ اگرچہ مونگ جیسی بعض دالوں میں معمولی اتار چڑھا رہا، تاہم مجموعی رجحان رمضان سے قبل حساس قیمتوں پر دبا میں کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گندم کی بوائی کے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور فروری تک مکمل موسمی ہدف پورا ہونے کی توقع ہے، جس سے ملکی غذائی تحفظ مضبوط ہوگا۔
چینی اور چکن کی قیمتیں، جو سال کے آغاز میں بڑھی تھیں، نمایاں طور پر کم ہو چکی ہیں۔ چینی کی قیمت 180 روپے فی کلو سے کم ہو کر تقریبا 150 روپے فی کلو رہ گئی ہے۔ساختی مسائل کے حل کے لیے وزیر منصوبہ بندی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو کولڈ چین انفراسٹرکچر پر جامع مطالعہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کولڈ چینز مارکیٹ کے جھٹکوں کو جذب کرنے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور طلب و رسد میں توازن کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے ساتھ مل کر عالمی بہترین طریقہ کار اور مراعات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی۔
احسن اقبال نے پولٹری، ڈیری اور جوس سیکٹرز پر پالیسی ورکنگ پیپرز تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انڈوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جسے بہتر پروسیسنگ، معیار کی یقین دہانی اور مارکیٹ تک رسائی کے ذریعے مزید تقویت دی جانی چاہیے۔انہوں نے خوراک کے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گھی کی تیاری میں ہارڈ آئل کے استعمال کا نوٹس لیا اور کہا کہ دل کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے خوراک کے معیار پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو صوبائی فوڈ کنٹرول اتھارٹیز کو خطوط ارسال کر کے مقررہ میلٹنگ ٹمپریچر کے نفاذ اور مضر تیلوں کے استعمال کی روک تھام کی ہدایت کی گئی۔وزیر منصوبہ بندی نے زرعی درآمدات کے متبادل اور قومی زرعی خودکفالت پر ورکنگ پیپر تیار کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ درآمدات پر انحصار کم اور زرمبادلہ محفوظ کیا جا سکے۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے بتایا کہ قومی غذائی ذخائر مستحکم ہیں؛ گندم اگلے چار ماہ کے لیے وافر ہے اور کرشنگ سیزن کے باعث چینی کی دستیابی بہتر ہوئی ہے۔ چاول، چکن اور آلو کی ملکی پیداوار بھی مضبوط ہے۔ تاہم رمضان کے دوران زیادہ طلب والی درآمدی اشیا بشمول چنا، خوردنی تیل، کھجوریں اور دالیں کی سپلائی چینز ایک ہفتے میں بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ قلت یا ذخیرہ اندوزی سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں صوبوں کے رمضان انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور صوبوں کو پی بی ایس کے ساتھ سٹاک مانیٹرنگ میں تعاون اور ڈپٹی کمشنرز کو ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف مثر کارروائی کی ہدایات جاری کی گئیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ صارفین کے تحفظ، ملکی پیداوار کے استحکام اور میکرو اکنامک استحکام کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں، ریگولیٹرز اور مالیاتی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی، بروقت اقدامات اور ساختی اصلاحات کے ذریعے قیمتوں کے استحکام، غذائی تحفظ اور عوامی فلاح کو قومی منصوبہ بندی کا مرکزی ستون بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔