اونا وہ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان کے علم میں لائے بغیر اور ان کی اجازت لیے بغیر سمارٹ چشمے (جس میں کیمرے لگے ہوتے ہیں) سے ان کی ویڈیو بنائی۔ اس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے تقریباً 10 لاکھ بار دیکھا گیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئے۔ بہت سے تبصرےجنسی نوعیت کے اور توہین آمیز تھے۔
اونا کہتی ہیں کہ اس واقعے سے پہلے وہ سمارٹ چشموں یا ان کے استعمال کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھیںسمارٹ چشمے، جنھیں پہننے والی ٹیکنالوجی کا مستقبل کہا جا رہا ہے، دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔ لیکن خدشات ہیں کہ یہ مصنوعات خواتین کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانے، ان کی توہین کرنے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
اونا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے ان کے علم میں لائے بغیر اور ان کی اجازت لیے بغیر سمارٹ چشمے (جس میں کیمرے لگے ہوتے ہیں) سے ان کی ویڈیو بنائی۔ اس کے بعد وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے تقریباً 10 لاکھ بار دیکھا گیا اور سینکڑوں تبصرے کیے گئے۔ بہت سے تبصرےجنسی نوعیت کے اور توہین آمیز تھے۔
اونا کہتی ہیں کہ ’مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، میں نے اسے پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی میں نے خفیہ طور پر بنائی جانے والی ویڈیو پر رضامندی دی۔ اس چیز نے مجھے بہت ڈرا دیا ہے۔ اب میں عوامی مقامات پر جانے سے ڈرتی ہوں۔‘
اونا کہتی ہیں کہ گذشتہ جون میں برائٹن کے ساحل پر دھوپ کا چشمہ پہنے ایک آدمی ان کے پاس آیا۔
اس شخص نے ان کا نام پوچھا، وہ کہاں سے ہیں اور کیا وہ اسے اپنا نمبر دے سکتی ہیں۔
انھوں نے شائستگی سے انکار کیا اور کہا کہ ان کا بوائے فرینڈ ہے۔
کچھ ہفتوں بعد انھیں ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو بھیجی گئی۔ یہ اس شخص کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ تھی جسے اس کے نقطہ نظر سے فلمایا گیا تھا۔ تب اونا کو احساس ہوا کہ وہ شخص انھیں اپنے چشموں سے فلما رہا ہے۔
جو بھی سمارٹ چشمے پہنتا ہے اسے سمارٹ فون کی طرح ہی معلومات اور ایپس تک رسائی مل جاتی ہے۔ سمارٹ چشمے پہنے شخص نقشے دیکھ سکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔
اونا کہتی ہیں کہ ویڈیو پر ویوز بڑھتے دیکھ کر انھیں گھبراہٹ کا احساس ہونے لگا۔
ان کے مطابق ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہو رہا تھا کہ وہ برطانیہ کے علاقے برائٹن میں رہتی ہیں، ویڈیو پر آنے والے تبصرے توہین آمیز تھے، ’یہ سب میرے اختیار سے بالکل باہر تھا اور یہی بات مجھے ڈرا رہی تھی۔‘
اونا نے پولیس کو آگاہ کیا لیکن انھیں بتایا گیا کہ پولیس کچھ نہیں کر سکتی کیوں کہ عوامی مقامات پر لوگوں کی ویڈیو بنانا غیر قانونی نہیں ہے۔
اونا کہتی ہیں کہ ’ایسے واقعات ہر اس عورت کے ساتھ ہوتے ہیں جسے میں جانتی ہوں‘، لیکن ایسی گفتگو فلمائی جا سکتی ہے اور آن لائن نشر کی جا سکتی ہے، یہ سوچنا بھی ’خوف ناک اور ڈراؤنا ہے۔‘
بی بی سی نے اونا کی ویڈیو پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کے مالک سے رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
جس شخص نے اونا کو فلمایا تھا، انھوں نے اپنے ٹک ٹاک پیج پر ایسی ہی سینکڑوں ویڈیوز پوسٹ کی ہوئی تھیں، اور وہ اکیلے ایسے نہیں جو اس طرح کا مواد بنا رہے ہیں۔
لندن سے تعلق رکھنے والی کیٹ بتاتی ہیں کہ سمارٹ چشمے پہنے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان کے علم میں لائے بغیر یا ان کی رضامندی لیے بغیر ان کی ویڈیو بنائیکیٹ کو بھی ایک آدمی نے سمارٹ چشمے پہن کر فلمایا تھا۔
وہ جم میں تھیں جب آدمی ان کے پاس آیا اور ان کا نمبر مانگا لیکن کیٹ نے نمبر دینے سے انکار کر دیا۔
اگلے دن اس گفتگو کی ویڈیو انھیں بھیجی گئی جو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔
آن لائن نشر ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر اندر وہ ویڈیو تقریباً 50 ہزار بار دیکھی جا چکی تھی۔ ویڈیو پر کیٹ کیسی نظر آ رہی تھیں اور ان کا رویہ کیسا تھا، اس بارے میں بہت سے توہین آمیز اور نا مناسب تبصرے آئے۔
کیٹ نے بتایا، ’ایسا لگا مجھے الٹی آ جائے گی۔ میں پریشان ہوں، انٹرنیٹ پر لوگ میری نقلیں اتار رہے ہیں، میرا مذاق اڑا رہے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ جو کچھ ہوا اس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔‘
کیٹ کہتی ہیں کہ انھیں اس شخص پر سخت غصہ ہے جس نے انھیں فلمایا، ’یہ سب آن لائن سستی توجہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پھر آپ کو گندے تبصرے ملتے ہیں جس سے آپ کا اعتماد اور عزت نفس متاثر ہوتے ہیں۔‘
کیٹ نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ دو بار ان پر جنسی حملہ ہو چکا ہے، ’کبھی آپ کو لگتا ہے آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو رہی ہے، لیکن پھر اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں۔‘
رپورٹ کیے جانے کے بعد ٹک ٹاک نے اونا اور کیٹ کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ ہٹا دیے ہیں۔
خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے بنائے گئے اتحاد کی رکن ریبیکا ہجن کہتی ہیں کہ اس قسم کے سمارٹ گلاسز کا استعمال حیران کن نہیں ہےریبیکا ہجن اس اتحاد کی رکن ہیں جو خواتین پر تشدد ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سمارٹ چشموں سے بغیر اجازت لوگوں کو فلم بند کرنے والا رجحان افسوس ناک ہے لیکن ایسا ہونا ہی تھا۔
’یہ بالکل واضح ہے کہ اس طرح کے چشموں کا استعمال مجرم کریں گے، یا خواتین کو خوف زدہ کرنے والے اور شرمندہ کرنے والے نقصان دہ جنسی رویوں میں اس کا استعمال ہو گا۔ یہ یقینی طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے تشویش ناک رویوں کی نشاندہی کرتا ہے۔‘
گوگل گلاس کو سب سے پہلے سمارٹ چشموں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ سنہ 2014 میں برطانیہ میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے اور ان کی قیمت تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ تھی۔
سات ماہ سے بھی کم عرصے میں، پرائیوسی خدشات کی وجہ سے 2015 میں ان کی فروخت بند کر دی گئی۔ کئی شراب خانوں اور ریستورانوں نے یہ پابندی بھی لگا دی کہ ان کی حدود میں سمارٹ چشمے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔
اب مصنوعی ذہانت سے لیس سمارٹ چشموں کے ساتھ گوگل مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کے منصوبے بنا رہا ہے۔
(بائیں) سنہ 2013 میں متعارف کرایا گیا گوگل گلاس، گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے پہنا ہوا ہے۔ (دائیں) میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ سمارٹ چشمہ پہن رہے ہیںوقت کے ساتھ ساتھ سمارٹ چشموں میں ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ عام عینکوں کی طرح دکھائی دیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اب انھیں پہچاننا مشکل ہو چکا ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام کی مالک کمپنی میٹا نے 2021 میں سمارٹ چشموں کی فروخت شروع کی اور گذشتہ سال فروری تک وہ تقریباً 20 لاکھ چشمے بیچ چکے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے چشموں میں ایک ایل ای ڈی لائٹ ہے۔ کوئی ریکارڈنگ کرے تو یہ روشن ہو جاتی ہے اور دوسروں کو بھی علم ہو جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق پروڈکٹ میں ایسی ٹیکنالوجی بھی ہے کہ اس لائٹ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
لیکن آن لائن ایسے بہت سے طریقے موجود ہیں جو وضاحت کرتے ہیں کہ خفیہ ریکارڈنگ کرتے ہوئے یہ لائٹ کیسے بند کر دی جائے یا چھپا دی جائے۔ بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے کچھ طریقے ریکارڈنگ کے دوران ایل ای ڈی لائٹ کو کامیابی سے چھپا لیتے ہیں۔
جب اونا اور کیٹ کو فلمایا جا رہا تھا تو انھوں نے چشموں پر کوئی بھی چمکتی ہوئی روشنی نہیں دیکھی۔
یہ بات میٹا کے سامنے رکھی گئی تو ان کا جواب تھا ’وہ گاہکوں کی رائے اور تحقیق کی روشنی میں اپنے مصنوعی ذہانت والے چشموں کو بہتر بنانے کے تمام امکانات کا جائزہ لیں گے۔‘
’سمارٹ چشمے مفید ہیں‘
عوامی مقامات پر لوگوں کو فلمانا ویسے تو غیر قانونی نہیں ہے، جب تک وہ کوئی ایسی چیز نہ کر رہے ہوں جسے ذاتی سمجھا جائے۔ لیکن ذاتی سمجھی جانے والی حرکت کو فلمانا بھی ہراسانی اور پیچھا کرنے کے قوانین کے تحت قابل گرفت ہے۔
کینٹ یونیورسٹی میں شعبہ سائبر سیکیورٹی برائے معاشرہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جیسن نرس کہتے ہیں ’ایک مسئلہ یہ ہے کہ قوانین ٹیکنالوجی سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ سمارٹ چشمے مفید ہیں۔ لیکن ان کا غلط استعمال بھی روکنا ہو گا۔ مجرموں پر واضح کرنا ہو گا کہ اگر انھوں نے نقصان پہنچایا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔‘
ڈاکٹر جیسن نے بتایا کہ سمارٹ چشمے ان لوگوں کے کام آ سکتے ہیں جنھیں روزمرہ کے کاموں میں معاونت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ سیاحت اور عوامی مفاد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کس شخص نے سمارٹ چشمے پہن رکھے ہیں، ’اس کا مطلب ہے کہ لوگ اتنے محتاط نہیں ہوتے جتنا انھیں ہونا چاہیے۔‘
میٹا نے کہا کہ ریکارڈنگ کا کوئی بھی آلہ استعمال کرنے والوں کی طرح سمارٹ چشمے استعمال کرنے والوں کو بھی ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو ’ہراساں کریں، پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزی کریں، یا حساس معلومات کو ریکارڈ کریں۔‘
(برطانوی) محکمہ داخلہ کے ترجمان نے کہا ’خواتین اور لڑکیوں پر تشدد ایک قومی ایمرجنسی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی، بشمول سمارٹ ڈیوائسز، متاثرین کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے استحصال سے نمٹنا ہماری حکمت عملی کا حصہ ہو گا۔ اس سے متاثرین کو تحفظ اور مجرموں کو سزا دینے میں مدد ملے گی۔‘
گوگل نے تبصرے کے لیے بی بی سی کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔