’مادورو ستیا سائی بابا کے عقیدت مند ہیں‘: امریکہ میں قید وینزویلا کے رہنما کی انڈیا میں تصویر کی حقیقت کیا ہے؟

شری ستیا سائی سینٹرل ٹرسٹ کے مینیجنگ ٹرسٹی آر جے تناکر نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ وینزویلا کی موجودہ صدرڈیلسی رودریگیز بھی ستیا سائی بابا کی عقیدت مند ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو تحویل میں لیے جانے کے واقعے نے دنیا بھر میں ایک ہلچل سی مچا دی ہے۔ تاہم انڈیا میں اس وقت مادورو ایک اور وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصاویر وائرل ہوئی ہیں جن میں مادورو کو انڈیا کی ایک مذہبی شخصیت کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انڈیا کے فلاحی ادارے ’شری ستیا سائی سینٹرل ٹرسٹ‘ کے مطابق مادورو سنہ 2005 میں ریاست اندھرا پردیش کے شہر پوٹا پرتھی آئے تھے اور انھوں نے مذہبی اور روحانی شخصیت ستیا سائی بابا سے دعا کروائی تھی۔

شری ستیا سائی سینٹرل ٹرسٹ کے مینیجنگ ٹرسٹی آر جے رتناکر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ’صدر مادورو ستیا سائی بابا کے عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس نے سال 2005 میں پوٹا پرتھی میں ستیا سائی بابا کے آشرم کا دورہ کیا اور بابا سے آشیرواد حاصل کیا۔‘

یاد رہے کہ امریکی افواج نے تین جنوری کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر حملہ کر کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔

امریکہ کے حملے کے بعد اب وینزویلا کی نائب صدر نے ملکی صدارت کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

اسی پیش رفت کے تناظر میں انڈیا میں اس بات کے چرچے ہو رہے ہیں کہ مادورو نے ماضی میں آندھرا پردیش میں پوٹا پرتھی کا دورہ کیا تھا اور ستیا سائی بابا سے ملاقات کی تھی۔

آر جے رتناکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سچ ہے کہ مادورو پوٹا پرتھی آئے تھے اور انھوں نے ستھیا سائی بابا کے درشن کیے تھے۔‘

ان کے مطابق ’مادورو اور سیلیا فلورس 2005 میں پوٹاپرتھی ستھیا سائی بابا کے آشرم میں بابا کا آشیرواد لینے آئے تھے۔ بڑی تعداد میں غیر ملکی عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔ جب تک وہ خود اپنی شناخت نہیں ظاہر کرتے، ہمیں علم نہیں ہوتا کہ وہ کون ہیں۔‘

آر جے تناکر نے واضح کیا کہ ’جب مادورو یہاں آئے اس وقت یہاں اہم تہوار چل رہا تھا۔ اسی دوران وہ آئے اور اندر جا کر بابا سے ملے۔ انھوں نے بابا کے ساتھ ایک تصویر لینے کی درخواست کی۔ ہمارے پاس ان کی صرف وہی تصویر دستیاب ہے۔‘

’وینزویلا میں بھی بابا سے متعلق عقیدت مندی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ صرف وہاں ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بابا کے نام پر کئی آشرم ہیں۔ ان تمام جگہوں پر مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔‘

رتناکر نے کہا کہ ’وہ (مادورو) ستیا سائی بابا کے عقیدت مند ہیں اور بابا کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مادورو نے اپنے محل میں ستیا سائی بابا کی تصویر لگائی ہے۔‘

’وینزویلا کی نئے صدر بھی عقیدت مند ہیں‘

آر جے تناکر نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ وینزویلا کی موجودہ صدرڈیلسی رودریگیز بھی ستیا سائی بابا کی عقیدت مند ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب ڈیلسی رودریگیز نائب صدر تھیں تو انھوں نے یہاں آ کر ستیا سائی بابا کی مہاسمدھی (یادگار) پر حاضری دی تھی۔

ان کی ستھیا سائی بابا کی سمادھی پر جانے کی تصاویر فی الحال سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

’ستیا سائی سنٹرل ٹرسٹ‘ کی ویب سائٹ اور فیس بک پر موجود تصاویر اور معلومات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیلسی رودریگیز نے اگست 2023 اور اکتوبر 2024 میں پوٹا پرتھی کا دورہ کیا تھا اور پرشانتی نیلائم کے مندر میں سائیں بابا کی یادگار پر حاضری دی تھی۔

ستیا سائی ٹرسٹ کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جب رودریگیز 26 اکتوبر 2024 کو پوٹاپرتھی پہنچیں تو وہ وینزویلا کی نائب صدر تھیں۔

امریکہ نے مادورو کو تحویل میں کیوں لیا؟

پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انڈیا میں وینزویلا کے اس وقت کے سفیر بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

ستیا سائی سنٹرل ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر آر جے رتناکر نے ان کا خیرمقدم کیا۔ جب ڈیلسی رودریگیز 2023 میں G-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا آئیں تو انھوں نے وہاں کا دورہ کیا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ ان کا ذاتی دورہ تھا۔

مادورو
Reuters

صدر مادورو بائیں بازو کے صدر ہیوگو شاویز کے بعد وینزویلا کی یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کے دور میں اقتدار میں آئے تھے۔

مادورو، جو پہلے ایک بس ڈرائیور اور یونین لیڈر کے طور پر کام کر چکے ہیں، شاویز کے بعد 2013 میں ملک کے صدر بنے تھے۔

مادورو کو 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا فاتح قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس نتیجے کو قبول نہیں کیا تھا۔

امریکہ طویل عرصے سے صدر مادورو پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ایک مجرمانہ گینگ چلانے کا الزام لگاتا رہا ہے، تاہم وہ خود ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

کارٹیل ڈی لوس سولز نامی گروپ کو امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ امریکہ اس نام کا استعمال وینزویلا کی کچھ بااثر شخصیات کے حوالے سے کرتا ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ یہ گروپ منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی کان کنی جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

اور اب صدرمادورو کو اب امریکہ میں ہتھیاروں اور منشیات سے متعلق الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US