وفاقی آئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ کی جانب سے بلوچستان حکومت کے خلاف دائر آئینی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے دہرے پہلو (Dual Aspect) کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ قانون کو آئینی قرار دے دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہوسکتے ہیں اور اس بنیاد پر صوبائی حکومت کا قانون سازی کا اختیار برقرار رہتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کسی قانون کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کا کوئی پہلو وفاقی دائرہ اختیار سے بھی متعلق ہو۔
15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا، جبکہ مقدمے کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل بینچ نے کی۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق بلوچستان حکومت کی جانب سے نافذ کیا گیا قانون آئین کے منافی نہیں ہے اور اس پر اٹک سیمنٹ کے اعتراضات قابلِ قبول نہیں ٹھہرائے گئے۔