سینیٹر پلوشہ خان نے مبینہ جعلی آرڈیننس کے اجرا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں تو سنا تھا، مگر اب پہلی بار جعلی آرڈیننس کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا، جبکہ صدر آصف علی زرداری کو اس بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر کو دھوکا دے کر ایک باریک واردات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وضاحت دی گئی کہ یہ سب غلطی سے ہوا، مگر پاکستان ایسی غلطیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پیپلز پارٹی کا مشورہ ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے۔
پلوشہ خان نے مطالبہ کیا کہ جعلی آرڈیننس بنانے کی فیکٹری بند کی جائے اور جو عناصر ایسی غلطیاں کر رہے ہیں، انہیں اپنی صفوں سے نکالا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی غلطی ہو جائے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی قوم کے سامنے حقائق لاتی رہے گی۔