بگڑتے معاشی حالات کی وجہ سے عمید گذشتہ چند دنوں سے جنوبی ایران کے ایک چھوٹے سے شہر میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس شہر میں سکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر کلاشنکوف جیسے ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہم ایک ظالم حکومت کے خلاف خالی ہاتھوں لڑ رہے ہیں۔‘
جمعے کے روز شمال مغربی تہران کے کاج چوک میں ہونے والا مظاہرہ’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلا رہے تھے۔ لوگ وہیں گر پڑے جہاں کھڑے تھے۔‘
یہ کہتے ہوئے عمید کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس خوف سے کہ انھیں ڈھونڈ لیا جائے گا۔
ایران اور باقی دنیا کے درمیان خاموشی کی دیوار توڑنا بہت حوصلے والا کام ہے، خاص طور پر جب حکام کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہو۔
بگڑتے معاشی حالات کی وجہ سے عمید گذشتہ چند دنوں سے جنوبی ایران کے ایک چھوٹے سے شہر میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس شہر میں سکیورٹی فورسز نے نہتے مظاہرین پر کلاشنکوف جیسے ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہم ایک ظالم حکومت کے خلاف خالی ہاتھوں لڑ رہے ہیں۔‘
ایران میں گذشتہ ہفتے سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے اسی طرح کی کارروائیوں کی کئی اطلاعات بی بی سی کو ملی ہیں۔
اس کے بعد سے حکام نے انٹرنیٹ تک رسائی منقطع کر دی ہے اور ایران سے اطلاعات پہنچانا پہلے سے مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے بی بی سی فارسی کو ملک کے اندر رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے۔
حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ملک گیر احتجاج جمعرات کے روز ہوا اور یہ مظاہروں کی 12ویں رات تھی۔ شاہ ایران، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار سے ہٹا دیے گئے تھے، ان کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی نے عوام سے باہر نکلنے کی اپیل کی تھی۔ جمعرات اور جمعے کے روز مظاہرے کرنے والے افراد بظاہر اسی اپیل کے بعد باہر نکلے تھے۔
اگلے دن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا 'ایرانی حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔' یوں لگتا ہے خون ریزی اس انتباہ کے بعد ہوئی، کیوں کہ سکیورٹی فورسز اور پاسداران انقلاب انہی سے احکامات لیتے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق: ’دہشت گردی کی کارروائیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکام نے بد امنی پھیلانے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر لگایا ہے۔
تہران سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون نے کہا کہ گذشتہ جمعرات کو ایسا لگا جیسے ’قیامت آ گئی ہے۔‘
خاتون کا کہنا تھا ’تہران کے مضافات بھی مظاہرین سے بھرے ہوئے تھے۔ ایسے مقامات پر بھی مظاہرے ہوئے جہاں آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ لیکن جمعے کے روز تو سکیورٹی فورسز بس مارتے گئے، مارتے گئے اور مارتے گئے۔ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر میرا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ جمعہ ایک خوں ریز دن تھا۔‘
خاتون نے بتایا کہ جمعے کو ہوئے قتل عام کے بعد لوگ باہر نکلنے سے خوف زدہ ہو گئے ہیں اور بہت سے تو بس اپنی گلیوں اور گھروں کے اندر سے ہی نعرے لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’تہران ایک میدان جنگ بنا رہا، مظاہرین اور سکیورٹی فورسز نے گلیوں میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔ خاتون نے اس بات کا اضافہ کیا 'مگر جنگ میں تو دونوں فریقوں کے پاس ہتھیار ہوتے ہیں۔ یہاں لوگ صرف نعرے لگاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔ یہ یک طرفہ جنگ ہے۔‘
تہران کے مغرب میں واقع شہر فردیس سے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے ایک نیم فوجی دستے نے مظاہرین پر اچانک حملہ کر دیا، جب کہ پولیس کئی گھنٹے سے گلیوں میں موجود نہیں تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق یونیفارم میں ملبوس اور موٹرسائیکلوں پر سوار فورسز نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ بغیر نشان والی گاڑیاں گلیوں میں بھی داخل کی گئیں اور ان میں سوار افراد نے گھروں میں موجود ایسے افراد پر بھی فائرنگ کی جو مظاہروں میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔
ایک عینی شاہد نے الزام لگایا ’ہر گلی میں دو یا تین لوگ مار دیے گئے۔‘
بی بی سی فارسی کو اپنا موقف دینے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایران کی حقیقی صورت حال سمجھنا بیرونی دنیا کے لیے مشکل ہے اور بین الاقوامی میڈیا نے ابھی تک ہلاکتوں کی جو تعداد بتائی ہے وہ ان کے اندازوں کا بس ایک حصہ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو ایران میں آزادنہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ زیادہ انحصار ایرانی انسانی حقوق کی ایسی تنظیموں پر کرتے ہیں جو ملک سے باہر کام کر رہی ہیں۔ پیر کے روز ناروے میں موجود ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا کہ ایران میں کم از کم 648 مظاہرین مار دیے گئے ہیں، ان میں سے نو افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
کچھ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین نے کئی شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ بتائی ہے۔ یہ تعداد سینکڑوں سے لے کر ہزاروں تک ہے۔
بی بی سی اس وقت ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر ہے اور ایرانی حکام نے بھی ابھی تک ہلاک مظاہرین کی سرکاری یا شفاف تعداد فراہم نہیں کی ہے۔
تاہم، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران 100 سکیورٹی اہل کار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا مظاہرین کو بلوائی قرار دیتے ہوئے رپورٹ کر رہا ہے کہ انہوں نے کئی شہروں میں درجنوں مساجد اور بینک جلا دیے ہیں۔
بی بی سی فارسی کی فیکٹ چیکنگ ٹیم نے جن ویڈیوز کی تصدیق کی، ان میں بھی نظر آتا ہے کہ مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر پولیس کی گاڑیاں اور سرکاری عمارات جلائی جا رہی ہیں۔
بی بی سی فارسی کو بھیجی گئی گواہیاں اور ویڈیوز زیادہ تر بڑے شہروں سے ہیں، جیسے کہ تہران، قریبی شہر کرج، شمال میں رشت، شمال مشرق میں مشہد، اور جنوب میں شیراز۔ ان علاقوں میں سٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کی وجہ سے انٹرنیٹ تک بہتر رسائی ہے۔
شروع میں زیادہ ہلاکتیں چھوٹے شہروں میں ہوئیں۔ اسٹارلنک تک رسائی محدود ہونے کی وجہ سے وہاں سے آنے والی معلومات بھی کم ہیں۔
لیکن کئی شہروں سے ملنے والی معلومات کی تعداد اور یکسانیت سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ کارروائیاں شدید تھیں اور بڑے پیمانے پر جان لیوا تشدد ہوا۔
بی بی سی سے بات کرنے والے طبی عملے اور نرسز نے بتایا کہ انھوں نے متعدد لاشیں اور زخمی مظاہرین دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تعداد کی وجہ سے کئی شہروں کے ہسپتال شدید زخمی افراد کو سنبھال ہی نہ پائے، خاص طور پر وہ جن کے سر اور آنکھوں پر زخم آئے تھے۔ کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ 'لاشیں ایک دوسرے کے اوپر رکھی گئی تھیں' اور انھیں اہل خانہ کے حوالہ نہیں کیا جا رہا تھا۔
جمعے کے روز تہران سے سامنے آنے والی ویڈیو جس میں گاڑیاں جلتی ہوئی دکھائی گئیںسماجی کارکنوں کی جانب سے چلائے جانے والے ٹیلی گرام چینل واحد آن لائن پر اتوار کے روز جو خوف ناک ویڈیوز شائع کی گئیں ان میں تہران کے کھریزک فارنزک میڈیکل سینٹر میں لاشوں کی بڑی تعداد دکھائی گئی، جہاں بہت سے اہل خانہ سوگ منا رہے تھے یا لاشیں شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بظاہر کھریزک سے آنے والی ویڈیو میں رشتہ دار شناخت نہ ہونے والی لاشوں کی تصاویر سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔
اسی جگہ اور باہر گلی میں کئی لاشیں سیاہ تھیلوں میں نظر آ رہی تھیں، جن میں سے صرف چند کی ہی شناخت ہو پائی تھی۔
ایک ویڈیو میں گودام کا اندرونی منظر دکھایا گیا جہاں کئی لاشیں پڑی تھیں، دوسری ویڈیو میں ایک ٹرک دکھایا گیا جس سے لاشیں اتاری جا رہی تھیں۔
مشہد کے ایک قبرستان میں کام کرنے والے شخص نے بتایا کہ جمعے کی صبح سورج نکلنے سے پہلے 180 سے 200 ایسی لاشیں لا کر فوری طور پر دفنا دی گئیں جن کے سروں پر شدید چوٹیں تھیں۔
رشت سے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ جمعرات کے روز شہر کے اسپتال کے مردہ خانے میں 70 مظاہرین کی لاشیں منتقل کی گئیں۔ ان کے مطابق لاشیں اہل خانہ کے حوالے کرنے سے پہلے سکیورٹی فورسز نے ’گولیوں کے پیسے‘ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران مشرقی تہران کے اسپتال میں کام کرنے والے طبی عملے کے ایک رکن نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ جمعرات کے روز وہاں 40 لاشیں لائی گئیں۔ طبی کارکن کی شناخت چھپانے کے لیے ہسپتال کا نام چھپایا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اتوار کو کہا کہ ’میں ان حالیہ خبروں پر صدمے میں ہوں کہ مظاہرین پر ایرانی حکام کی جانب سے تشدد اور طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘
ایران میں اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق مائی ساٹو نے بی بی سی فارسی کو بتایا ’میں یہ بات زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ ہلاکتوں کی تعداد کچھ بھی ہو، سکیورٹی فورسز کی جانب سے مہلک طاقت کا استعمال باعث تشویش ہے۔‘