ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایران کے اصل مسائل انھیں خود حل کرنے چاہییں۔‘ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ کو امید ہے کہ ’امن و استحکام قائم رہے گا اور ہم اس صورتحال کے پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
- ایران کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے
- ایرانی عدلیہ کے مطابق مظاہروں کے دوران گرفتار عرفان سلطانی کو اب تک سزائے موت نہیں سنائی گئی ہے
- ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عرفاقچی نے انڈین ہم منصب ایس جے شنکر سے ٹیلی فونک گفتگو میں دعویٰ کیا کہ 'دہشت گرد عناصر' نے احتجاج کو 'فسادات' میں تبدیل کر دیا تھا
- ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کے دعوے ’بے بنیاد‘ ہیں
- امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ اب تک 2403 مظاہرین اور 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں
ترکی کی ایران میں فوجی کارروائی کی مخالفت، پاکستان ’پُرامن حل‘ کا خواہاں