شہید کی ماں ہونے پر فخر ہے، مردان حادثے میں شہید لیفٹیننٹ طحہٰ کے والدین کا پیغام

image

"طحہٰ میرا بہت پیارا بیٹا تھا۔ اس نے ہمیشہ ہمارے خاندان کا سر فخر سے بلند کیا۔ مجھے ایک شہید کی ماں ہونے پر فخر ہے اور اس بات پر بھی کہ میرے بیٹے نے وطن کے لیے اپنی جان قربان کی۔ گزشتہ دو دنوں سے میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ پھر اچانک میرے بیٹے کا فون آیا۔ ابتدا میں مجھے بتایا گیا کہ طحہٰ زخمی ہے، لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے میں سمجھ گئی تھی کہ میرا بیٹا شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو چکا ہے۔ جب میں نے اس کا آخری دیدار کیا تو اس کی پیشانی کو بوسہ دیا، وہ لمحہ میری زندگی سے کبھی نہیں مٹ سکتا۔ اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی بہو کا خیال رکھوں۔ مجھے اپنے بیٹے اور اپنی مسلح افواج دونوں پر فخر ہے۔"

مردان میں تربیتی پرواز کے دوران پاک فضائیہ کے طیارے کو پیش آنے والے المناک حادثے نے پورے ملک کو سوگوار کردیا۔ اس حادثے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ دونوں افسران اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران وطن پر قربان ہوگئے۔

شہید لیفٹیننٹ طحہٰ عباسی کے والدین نے اپنے بیٹے کی یادوں اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ایسے دل چھو لینے والے الفاظ کہے جنہوں نے سننے والوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ والد کے مطابق طحہٰ بچپن ہی سے نہایت سمجھدار، نرم مزاج اور مذہبی رجحان رکھنے والے تھے۔ وہ شرارتوں کے بجائے سنجیدہ گفتگو کو ترجیح دیتے اور اپنی دانشمندی سے اکثر بڑوں کو بھی حیران کردیتے تھے۔

ان کے والد نے بتایا کہ طحہٰ کی شادی صرف دو ماہ قبل ہوئی تھی اور وہ اپنی فلائنگ ٹریننگ کے آخری مرحلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب بڑے بیٹے، جو خود فوج میں میجر ہیں، نے صرف "طحہٰ " کہہ کر فون کیا تو ایک فوجی کے والد ہونے کے ناطے وہ فوراً سمجھ گئے کہ کوئی بڑا سانحہ پیش آ چکا ہے۔ ان کے مطابق طحہٰ خاندان کی جان تھے یہ واقعہ ایک بار پھر ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو پاکستان کے فوجی جوان اور افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران دیتے ہیں۔ شہید افسران کے اہلِ خانہ کے حوصلے، صبر اور وطن سے محبت کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ مردان طیارہ حادثے کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔ھے اور ہمیشہ سب کو ایک جگہ جمع رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔

اہلِ خانہ کے مطابق طحہٰ عباسی نے پہلے پاک بحریہ میں خدمات انجام دیں، بحری ذمہ داریوں کے بعد وہ فضائیہ کے شعبے میں آئے اور اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے بھرپور محنت کررہے تھے۔ ان کی شہادت نے نہ صرف خاندان بلکہ دوستوں اور ساتھیوں کو بھی گہرے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو پاکستان کے فوجی جوان اور افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران دیتے ہیں۔ شہید افسران کے اہلِ خانہ کے حوصلے، صبر اور وطن سے محبت کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ مردان طیارہ حادثے کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US