قبائلی ضلع کرم کی سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مشران نے سنٹرل کرم کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر بدامنی سے پاک کرنے اور وہاں سیکیورٹی فورسز کی مستقل تعیناتی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کے لیے دیگر اضلاع کے برابر ریلیف پیکج فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، بصورت دیگر لانگ مارچ کی دھمکی دے دی گئی۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا شاہ نواز، رفیع اللہ چمکنی، ملک کریم اورکزئی، قاری افسر خان اور دیگر مشران نے کہا کہ سنٹرل کرم میں حالیہ آپریشن کے باعث تقریباً پانچ ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جو تیندو اور بگن کے متاثرین کیمپوں سمیت لوئر کرم کے مختلف علاقوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنٹرل کرم کے تمام علاقوں اور اقوام کو ہر قسم کی بدامنی سے پاک کرکے فوج، ایف سی اور پولیس تعینات کی جائے تاکہ آئندہ اس سرزمین کو کسی بھی قسم کی بدامنی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ رہنماؤں نے کہا کہ جن علاقوں کو کلیئر قرار دیا جا چکا ہے وہاں کرفیو میں عوام کے لیے نرمی کی جائے۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ جاری آپریشن کے دوران شہید ہونے والی مساجد، مدارس، بے گناہ شہریوں کے مکانات اور دکانوں کو ازسرِ نو تعمیر کرکے متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ رہنماؤں کے مطابق پانچ ہزار رجسٹرڈ متاثرین کے لیے صرف پانچ سو خیمے فراہم کیے گئے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے، جبکہ امداد اور بنیادی سہولیات بھی انتہائی ناکافی ہیں۔
انہوں نے نادرا رجسٹریشن کے دوران ڈبل ایڈریس اور دیگر مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں سے لوگ تین چار ماہ قبل نقل مکانی کر چکے ہیں اور جو مکمل طور پر خالی ہیں، وہاں حکومتی رٹ قائم کرکے متاثرین کی باعزت واپسی ممکن بنائی جائے۔
مشران نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع خیبر سمیت دیگر متاثرہ اضلاع کی طرح سنٹرل کرم کے متاثرین کو بھی سو فیصد سہولیات، معاوضہ اور امداد فراہم کی جائے تاکہ احساسِ محرومی ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ سخت سردی، برف باری اور رمضان المبارک کے پیش نظر متاثرین کی جلد واپسی ناگزیر ہے، کیونکہ برف باری سے مکانات کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔