وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام کے قیام پر زور دیتے ہوئے 18ویں آئینی ترمیم کی موجودہ عملداری کو غیر مؤثر قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہوسکی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی ناکامی کے باعث وفاقی حکومت کو کارروائیاں کرنا پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ فیس سے متعلق بعض ترامیم واپس لے لی گئی ہیں، جس طرح گوادر سے لاہور تک یکساں نصاب متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے ملک بھر میں ایک ہی نصاب تعلیم ناگزیر ہے۔
کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط نظام کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ایوان کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پر زور دیا کہ وہ مل کر بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائیں۔
خواجہ آصف نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے بھی مقامی حکومت کے نظام سے ترقی کرتے ہوئے ملکی قیادت سنبھالی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط بلدیاتی نظام ملکی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی شناخت کے لیے یکساں نصاب اور ملک میں مضبوط بلدیاتی ادارے وقت کی ضرورت ہیں۔