پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے چار دن بعد بھی ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 28 لاشوں کی باقیات نکالی جا چکی ہیں جن میں سے اب تک صرف 11 کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔
ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق اب تک 85 افراد کی گمشدگی کی رجسٹریشن ہوئی ہے جبکہ 50 افراد کے اہلخانہ نے ڈی این اے جمع کرائے ہیںپاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے چار دن بعد بھی ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 28 لاشوں کی باقیات نکالی جا چکی ہیں جن میں سے اب تک صرف 11 کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔
صدر کے علاقے میں واقع گُل پلازہ میں سنیچر کی شب اچانک آگ بھڑک اُٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں جبکہ عمارت کا کچھ حصہ بھی آگ کی وجہ سے گر گیا ہے۔۔
ریسکیو 1122 کے مطابق آتشزدگی کے اس واقعے کے بعد درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 28 تک پہنچ گئی جبکہ مزید تین افراد کی شناخت بھی ہو گئی ہے جس کے بعد شناخت شدہ افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تین لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی جبکہ اس سے قبل ایک لاش کی شناخت شناختی کارڈ سے ہوئی جبکہ ایک خاتون کے گلے میں موجود لاکٹ سے انھیں پہچانا گیا۔
ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق اب تک 85 افراد کی گمشدگی کی رجسٹریشن ہوئی ہے جبکہ 50 افراد کے اہلخانہ نے ڈی این اے جمع کرائے ہیں۔ ان کے مطابق ان 85 افراد میں سے 28 کی لاشیں مل چکی ہیں
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت میں تلاشی کا عمل جاری ہے اور بدھ کو مزید لاشیں برآمد ہونے کا امکان ہے کیونکہ امدادی کارکن عمارت میں مزید اندر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق آتشزدگی کے اس واقعے کے بعد درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیںڈپٹی کمشنر کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران ’تین سائٹس کلیئر کی جا چکی ہیں جبکہ ایک سائٹ ابھی باقی ہے۔‘
حکام نے گل پلازہ کے ساتھ واقع رمپا پلازہ کو بھی سیل کردیا ہے۔ جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اسٹرکچرل رپورٹ کے بعد ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ رمپا پلازہ میں نجی دفاتر، کلینک اور گاڑیوں کے پرزوں کی دکانیں ہیں۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منگل کو کمشنر کراچی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں دکانداروں اور متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آگ لگنے کا وقت اور وجوہات سامنے آ سکیں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی منگل کو تاجروں کے وفد کے ساتھ مذاکرات کیے اور کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کو بری الذمہ قرار نہیں جاسکتا جنھوں نے حفاظتی انتظامات نہیں کیے تھے۔
ادھر شہر کی مختلف تاجر اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے جمعے کو گل پلازہ کے سامنے متاثرین کی بحالی کے لیے احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متاثرہ دکانداروں اور شہریوں کو فوری ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے اور اس واقعے نے شہر کے نظامِ حکمرانی، فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور بلدیاتی تیاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق ضلعی اور بلدیاتی سطح پر بروقت ردِعمل اور رابطہ کاری میں واضح کمزوریاں نظر آئی ہیں۔

’شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازے میں بہت رش تھا‘
اس سے قبل پیر کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ گُل پلازہ میں جن افراد کی دُکانیں تباہ ہوئی ہیں انھیں فوری طور پر دوسرے مقامات پر جگہ دی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔
انھوں نے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ اپنی مارکیٹوں میں فائر آلارم سسٹم لگائیں اور کہا کہ حکومتی سطح پر غلطیوں کی نشاندہی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق پاکستان میں شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازے میں بہت رش تھا، جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
گل پلازہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ میں موجود تھی جبکہ یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق ابتدا میں ’فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔‘
انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ آگ سرکٹ بریکر کی وجہ سے بھڑکی تاہم اس بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
آپریشن طول کیوں پکڑ رہا ہے؟
حکام کے مطابق گُل پلازہ میں سنیچر کی شب لگنے والی آگ کے بعد اب لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہےریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملنے کے بعد سے اُن کی ٹیمیں مسلسل کام کرتی رہیں۔ ’آپ سب نے دیکھا کہ اندر موجود سامان کی مقدار اور نوعیت کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی وقت لگا جس کے باعث یہ آپریشن طول پکڑ رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’فی الحال عمارت کا عقبی حصہ منہدم ہو چکا ہے اور سامنے کا بڑا حصہ بھی گر چکا ہے۔ مجموعی طور پر عمارت 45 فیصد سے زیادہ متاثر ہو چکی ہے۔ تقریباً 22 فائر ٹینڈر اور سنارکلز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔‘
ان کے مطابق ابتدائی طور پر آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگر اندر موجود مواد کی نوعیت کے باعث شعلے بار بار بھڑک اٹھتے ہیں اور آگ بجھنے میں وقت لگ رہا تھا۔
’جیسے ہی ہمیں رسائی ملی اور سرچ کا عمل شروع ہوا تو ایک طرف سے عمارت کا حصہ گر گیا اور بدقسمتی سے ایک فائر فائٹر بھی ہلاک ہو گئے۔ مجموعی طور پر 20 سے 22 افراد کو یہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔‘
میئر کراچی مرتضی وہاب کے مطابق ’عمارت کے اندر سے رسائی انتہائی مشکل ہے۔ جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے اور کولنگ پروسس مکمل ہو جائے تو پھر ہم تمام آلات استعمال کر سکیں گے۔ آپریشن میں صوبائی حکومت کا 112، ریسکیو 1122، کے ایم سیاور ڈپٹی کمشنر کی ٹیمیںموجود ہیں۔
سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی کو بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود تھے جس کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آئیں۔
’کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی‘
’گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں جن میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسا کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود تھے جس کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آئیں‘گل پلازہ کے سابق سیکریٹری جنرل عارف قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شب سوا دس بجے آگ لگی اور اس نے کچھ ہی لمحات میں گل پلازہ کی پانچوں گلیوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ آگ اتنی تیزی سے بھڑکی کہ لوگوں کو صرف اپنی جانیں بچانے کا موقع ملا اور وہ اپنی کوئی قیمتی چیز بھی نہیں اُٹھا سکے۔
’ہم نے کراچی میں بڑی بڑی آگ لگتی دیکھی ہیں لیکن یہ آگ کچھ الگ ہی قسم کی تھی۔ جب آگ لگی اس وقت 70 فیصد دکانیں کھلی تھیں کیونکہ سنیچر کو ویک اینڈ کی وجہ سے گاہگ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور سے تو لوگ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب آگ اس سے اُوپر والی منزل پر پہنچی تو وہاں موجود دکاندار اور گاہگ وقت پر وہاں سے نہیں نکل سکے اور وہیں اموات ہوئی ہیں۔
کیا پلازے میں فائر ایگزٹ کے مناسب انتظامات تھے؟ اس سوال کے جواب میں عارف قادری کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور پر 13 داخلی دروازے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔
اُن کے بقول اسی طرح ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر موجود تھے اور دکانداروں نے ان کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ یہ کام نہیں آ سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی دکانوں کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
’جائے حادثہ کے قریب تعمیراتی کام کی وجہ سے ریسکیو گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکل ہوئی‘

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سمیت متعدد افسران اس واقعے کے بعد ریسکیو سرگرمیوں کے دروان پیش آنے والے چیلنجز پر بھی بات کرتے ہوئے نظر آئے۔
پیر کو مراد علی شاہ نے شکوہ کیا کہ واقعے کے بعد جائے حادثہ پر لوگوں کے رش کے سبب ریسکیو اداروں لو کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ایسے کسی حادثے کے بعد اداروں کو کام کرنے دیا جائے، نہ کہ وہاں رش لگا کر ریسکیو سرگرمیوں کو تعطل کا شکار کیا جائے۔
دوسری جانب سندھ میں ریسکیو 1122 کے حکام آگ بھجانے میں مشکلات کا سبب علاقے میں جاری ترقیاتی کام بتاتے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بتایا کہ جائے حادثہ کے قریب بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے کھدائی اور سڑک تنگ ہونے سے ریسکیو گاڑیوں کو گُل پلازہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک تو سڑک تنگ تھی اور دوسری طرف لوگوں کی بڑی تعداد صرف تماشا دیکھنے کے لیے موجود تھی، جس کی وجہ سے پوری سڑک بلاک ہو کر رہ گئی تھی اور واٹر براؤرز کو وہاں راستہ ملنے میں دُشواری ہوئی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ دوسرا چیلنج یہ تھا کہ عمارت میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں کا درست تعین نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں زبردستی ایک اور راستہ بنانا پڑا۔
حسان الحسیب کے بقول تیسرا چیلنج یہ تھا کہ دکاندار جائے حادثہ سے دُور ہی نہیں جا رہے تھے کیونکہ اُن کی کوشش تھی کہ وہ اپنا سامان بچا لیں۔
اتوار کی صبح صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی گُل پلازہ کا دورہ کیا اور اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’جو عمارتیں بناتے ہیں، جو ان میں رہتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں ایسے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان ان ہی کا ہوتا ہے۔‘
’عمارتیں بناتے وقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے، کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں نقصان ہوتا ہے۔‘