امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے اپنے مجوزہ "بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کو اس اقدام میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے رہے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر بھی بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ مارک کارنی کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی تاہم اب کینیڈا کی شمولیت سے متعلق دعوت نامہ واپس لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں کا فورم ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں اب تک پاکستان سمیت 19 ممالک شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، ہنگری، کوسوو، مراکش اور ویتنام نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
ادھر ڈیووس میں ہی خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت پر صدر ٹرمپ سے اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ وہ ایک ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے عالمی استحکام کی ہر کوشش میں تعاون کیا ہے۔
امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد کینیڈا کی ممکنہ شمولیت سے متعلق صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے جبکہ عالمی سطح پر غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔