’لوگ مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں‘: جاپانی قصبے میں مسجد کی تعمیر پر احتجاج کیوں پھوٹ پڑا؟

یہ صورتحال امیگریشن اور سماجی تبدیلی کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے، ایسے وقت میں جب جاپان سکڑتی اور تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی کے باعث پیدا ہونے والی افرادی قوت کی شدید کمی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سڑک کے ساتھ رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں جہاں مسجد تعمیر کی جا رہی ہے
BBC
اس سڑک کے ساتھ رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں جہاں مسجد تعمیر کی جا رہی ہے

آج یہ محض گھاس کا ایک میدان ہے، لیکن جلد ہی یہاں اس جاپانی قصبے کی پہلی مسجد تعمیر کی جائے گی۔

طویل عرصے سے یہاں رہنے والی نوریکو اِزومی زاوا کہتی ہیں کہ ’مجھے اس بات کی فکر ہے کہ ہماری کمیونٹی کس طرح بدل سکتی ہے۔‘

ٹوکیو سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر جنوب میں واقع پُرسکون ساحلی قصبے فوجی ساوا میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے نے مختلف اور متضاد ردِعمل کو جنم دیا ہے۔

غصہ اور خوف کے ساتھ ساتھ امید اور قبولیت کے جذبات بھی موجود ہیں، جو امیگریشن اور سماجی تبدیلی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب جاپان سکڑتی اور عمر رسیدہ ہوتی آبادی کے باعث پیدا ہونے والی افرادی قوت کی کمی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک جانب غصہ اور خوف جیسے جذبات نمایاں ہیں، تو دوسری جانب امید اور حمایت کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔

یہ صورتحال امیگریشن اور سماجی تبدیلی کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے، ایسے وقت میں جب جاپان سکڑتی اور تیزی سے عمر رسیدہ ہوتی آبادی کے باعث پیدا ہونے والی افرادی قوت کی شدید کمی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگرچہ امیگریشن اب بھی جاپان میں ایک حساس اور سخت ضابطوں کے تابع سیاسی موضوع ہے، تاہم خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے ملک کا انحصار مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں پر ہوتا جا رہا ہے۔

اس رجحان کے نتیجے میں مختلف ثقافتوں، زبانوں، مذاہب اور طرزِ زندگی کے حامل تارکینِ وطن جاپانی معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں۔

اسی لیے فوجی ساوا جیسے قصبوں میں جاری بحث درحقیقت ایک وسیع تر سوال سے جڑی ہوئی ہے: جاپان اپنی قومی شناخت اور مستقبل کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

اِزومی زاوا اپنے خدشات میں اکیلی نہیں ہیں۔ وہ فوجی ساوا کے ان رہائشیوں کے ایک گروہ کا حصہ ہیں جو مقامی مسلم برادری کی بڑھتی ہوئی اور زیادہ نمایاں موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کے بقول امریکہ اور یورپ میں امیگریشن سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی تقسیم نے بھی ان کی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

نوریکو اِزومی زاوا
BBC
نوریکو اِزومی زاوا اس بات پر فکرمند ہیں کہ ان کے قصبے میں نئی مسجد کی تعمیر مقامی برادری کو کس طرح تبدیل کر سکتی ہے

اس سال کے آغاز میں ایک مقامی ریلوے سٹیشن پر مسجد مخالف مظاہرے بھڑک اٹھے تھے، جہاں مجوزہ مسجد کی تعمیر کے خلاف احتجاج کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بعض لوگوں کا مؤقف ہے کہ قریبی جاپانی شنٹو عبادت گاہ سے کہیں بڑی مسجد کی تعمیر بےاحترامی کے مترادف ہے۔

جاپان میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کے پھیلنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مساجد کو توہین آمیز فون کالز اور ای میلز موصول ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض گروہوں نے ’نفرت نہیں‘ کے نعرے کے ساتھ جوابی احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے۔

ہیروکی سوزوکا اس سڑک کے سامنے واقع ایک کافی شاپ چلاتے ہیں جہاں فُوجی ساوا کی مسجد تعمیر کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

سوزوکا نے کہا ’میں خاص طور پر مسجد کی تعمیر کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن یہ بھی نہیں کہوں گا کہ میں اس کے حق میں بہت مضبوطی سے کھڑا ہوں۔‘

’میرے خیال میں پہلا قدم یہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں جانیں، اسلام کیا ہے، وہ کس قسم کے لوگ ہیں اور ان کی اقدار اور نقطۂ نظر کیا ہیں۔‘

جاپان میں مسلمانوں کی زندگی

تاجر محمد محی الدین گذشتہ 39 برس سے اوساکا میں مقیم ہیں۔ وہ 1987 میں معاشی خوشحالی کے دور میں بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں اپنے آبائی ملک سری لنکا سے جاپان آئے تھے۔

انھوں نے قیمتی پتھروں کے کاروبار سے وابستگی اختیار کی اور بعد ازاں تجارت کے شعبے میں کام کیا، جہاں وہ استعمال شدہ گاڑیاں سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کو برآمد کرتے رہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسے وقت میں وہاں منتقل ہوئے تھے جب غیر ملکی باشندوں کی تعداد کہیں کم تھی۔

تاہم محی الدین محسوس کرتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں اب مقامی لوگوں کے رویّے میں تبدیلی آئی ہے اور وہ مسلمانوں کے بارے میں آن لائن اور براہِ راست توہین آمیز باتیں کرنے لگے ہیں۔

محی الدین نے کہا: ’سوشل میڈیا پر بے شمار تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں جیسے: ’جاپان سے نکل جاؤ‘ اور ’اپنے ملک واپس چلے جاؤ۔‘

انھوں نے مزید کہا ’لوگ مسجد میں آ کر گالم گلوچ بھی کرنے لگے ہیں۔‘

محی الدین مقامی مسلم کمیونیٹی کے ایک رکن کے طور پر روزانہ نماز اور دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اوساکا کی مسجد جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

تاہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کئی برسوں سے اچھے تعلقات رکھنے کے باوجود محی الدین نے حالیہ عرصے میں مسلمانوں کے بارے میں رویوں میں تبدیلی محسوس کی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ہم سے خوفزدہ ہیں۔‘

حالیہ برسوں میں مسلمانوں کو زبانی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں میں اضافہ ہوا ہے۔ محی الدین کو یاد ہے کہ ان کی مسلم برادری کے بعض افراد کو دہشت گرد کہا گیا، ان پر بم بنانے کے الزامات لگائے گئے اور انھیں جاپان چھوڑ کر چلے جانے کو کہا گیا۔

محی الدین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’جب ایسا ہوتا ہے تو ہمارے پاس صبر کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ وہ جھگڑا یا تصادم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم کب تک یہ سب برداشت کریں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس لیے ہم پُرسکون رہتے ہیں، نرمی سے بات کرتے ہیں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتے ہیں کیونکہ عام طور پر جاپانی لوگ اسلام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔‘

تاہم، ان کا خیال ہے کہ اس دوری کے لیے تمام لوگ مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہم نے صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی اور ایک طویل عرصے تک لوگوں کو یہ سمجھانے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی کہ ہم کون ہیں۔ ہم نے معاشرے کا حصہ بننے کے لیے بھی اتنی کوشش نہیں کی جتنی کرنی چاہیے تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اب میں مکالمے کو فروغ دینے اور باہمی تفہیم کو بہتر بنانے کے لیے مزید محنت کرنا چاہتا ہوں۔‘

Tokyo Camii Mosque
BBC
جاپان میں مسلمانوں کی آبادی گذشتہ چند دہائیوں کے دوران بڑھی ہے اور ملک بھر میں متعدد مساجد قائم ہیں

61 سالہ شکیل محمد گذشتہ ایک دہائی سے صوبہ سیتاما میں واقع یاشیو مسجد کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ پاکستان سے جاپان منتقل ہونے کے بعد انھوں نے 26 برس تک تعمیراتی مقامات پر نگران کے طور پر کام کیا اور وہ جاپانی زبان روانی سے بولتے ہیں۔

محمد کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات جاپان کے قوانین کی پابندی کرنا ہے، جن میں کچرے کو درست طریقے سے الگ کرنا، پارکنگ کے قواعد پر عمل کرنا اور سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہننا شامل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جاپان کے طریقۂ کار کا احترام کرنے اور وہاں کے قوانین کی پابندی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ شائستگی بھی اہم ہے، حتیٰ کہ لوگوں کو سلام کرنا جیسی سادہ بات بھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ یاشیو کے مقامی جاپانی باشندے علاقے کی پاکستانی برادری کو ’یاشیوستان‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’یقیناً کچھ پاکستانی ایسے ہیں جن کا رویہ اچھا نہیں ہوتا، لیکن وہ بہت چھوٹی اقلیت ہیں اور یہی بات جاپانیوں کے بارے میں بھی درست ہے۔‘

امیگریشن اور قومی شناخت

جاپان اپنی شناخت کے حوالے سے بڑے آبادیاتی تغیرات کے تناظر میں کشمکش کا شکار ہے۔

جاپان میں مسلمانوں کی تعداد، جس میں غیر ملکی رہائشی اور جاپانی مسلمان دونوں شامل ہیں، 2024 کے اختتام تک تقریباً چار لاکھ 20 ہزار ہو گئی تھی، جبکہ 2019 میں یہ تعداد دو لاکھ 30 ہزار تھی۔ یہ اعداد و شمار جاپان میں اسلام پر تحقیق کرنے والے واسیدا یونیورسٹی کے پروفیسر ایمیریٹس ہیروفومی تانادا کے مطابق ہیں۔

ملک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک وسیع تر قومی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ چین، ویتنام، جنوبی کوریا اور فلپائن سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی رہائشیوں کی تعداد 2025 میں 40 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے ریکارڈ 25 لاکھ 70 ہزار افراد جاپان میں ملازمت کر رہے ہیں۔ اسی سال جاپان کی مجموعی آبادی میں تقریباً 10 لاکھ افراد کی کمی واقع ہوئی۔

حکومتی عہدیدار طویل عرصے سے جاپان کو ایک ’امیگریشن ملک‘ قرار دینے سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم وہ ایسے ویزا پروگراموں کو فروغ دیتے ہیں جنھیں مستقل آبادکاری کے بجائے عارضی قیام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ناقدین اس طرزِ عمل کو ’خاموش امیگریشن نظام‘ قرار دیتے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے بڑے پیمانے پر امیگریشن کے خلاف ایک سخت قدامت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ جون 2026 میں جاپانی حکومت نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ویزا فیس میں پانچ گنا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ تقریباً 50 برس تک اس فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔

اب حکومت امیگریشن سروسز ایجنسی میں تقریباً 230 نئے ملازمین بھرتی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر قیام کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ حکام ملک میں مقیم غیر ملکی باشندوں کی تعداد کو منظم رکھنے کے لیے ایک حد مقرر کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔

جیسے جیسے تارکینِ وطن کی برادریاں زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہیں، ملک کو ایک ایسے سوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے وہ طویل عرصے سے گریز کرتا آیا ہے: کیا جاپان اپنی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے، جنھیں وہ بہت اہمیت دیتا ہے، ایک زیادہ متنوع معاشرہ بن سکتا ہے؟

فوجی ساوا میں ایزومیزاوا تسلیم کرتی ہیں کہ انھیں ذاتی طور پر کبھی کسی مسلمان پڑوسی کے ساتھ منفی تجربے کا سامنا نہیں ہوا۔

وہ کندھے اچکاتے ہوئے کہتی ہیں ’سچ تو یہ ہے کہ شاید مجھے صرف اس چیز سے خوف محسوس ہوتا ہے جسے میں نہیں جانتی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US