افغانستان میں طالبان رجیم کے قیام کے بعد ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہے اور معاشی ترقی کے دعوے بے بنیاد ثابت ہوگئے ہیں۔
افغانستان کے سابق وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے افغانستان انٹرنیشنل سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کے زیرِ حکومت سرمایہ کاری کے لیے ضروری فریم ورک موجود نہیں ہے اور ریاستی اداروں پر طالبان کے حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری ہے۔
ان کے بقول، سرمایہ کاروں کے لیے حالات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں، سیکیورٹی اور تربیت یافتہ افرادی قوت دستیاب نہیں، اور بین الاقوامی پابندیوں و معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے سرمایہ کاری شدید محدود ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دہشت گردی اور معاشی بحران کے باعث بیروزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے ملک کے معاشی مستقبل پر شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔