کراچی کی داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں خاتون ملازمہ کو ہراسانی کے کیس کے بعد بڑی انتظامی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے پر بروقت اور مؤثر اقدام کرتے ہوئے ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر عرفان علی چانڈیو کو عہدے سے ہٹادیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی اور جنسی ہراسانی کے خلاف قائم انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
وائس چانسلر داؤد یونیورسٹی ڈاکٹر سمرین حسین کی منظوری سے ڈاکٹر محمد رؤف، چیئرمین الیکٹرانک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو اضافی ذمہ داری سونپتے ہوئے ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین مقرر کردیا گیا ہے، جو سنڈیکیٹ کے آئندہ اجلاس تک یہ ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ امیر صدیقی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے، جو ڈیپارٹمنٹ کے تعلیمی و تدریسی امور میں چیئرمین کی معاونت کریں گی۔
یہ نوٹیفکیشن یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کی جانب سے وائس چانسلر کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔