اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف وکلا کی ہڑتال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ وکلا کی ہڑتال کے باعث کوئی بھی وکیل پیش نہیں ہو سکا جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وکلا کی ہڑتال کی وجہ کیا ہے۔
بیرسٹر خوش بخت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہڑتال ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف کی جا رہی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جن افراد کو وکلا نے خود گرفتار کروایا پہلے انہیں جیل بھیجتے ہیں اور بعد میں ہڑتال کر دی جاتی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری بار واقعی قابلِ داد ہے اسے تو میڈل ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کو نااہل اور عدالتوں کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بار نے خود دونوں وکلا کو جیل بھجوایا۔