انگلش اور ویلز کرکٹ بورڈ کو ممکنہ طور پر 110 ملین پاؤنڈز کا نقصان ہوسکتا ہے اگر پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان کرکٹ بورڈ پر کسی بھی قسم کی بائیلیٹل سیریز کھیلنے پر پابندی لگا سکتا ہے اگر پاکستان میں ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں سب سے زیادہ نقصان انگلینڈ کو ہوگا جس نے پاکستان کی تین ٹیسٹ میچز کے لیے اس سال اگست سے ستمبر میں میزبانی کرنی ہے۔ ان تینوں ٹیسٹ میچز سے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ وہ ہر ٹیسٹ میچ سے 35 ملین پاؤنڈز کمائیں گے کیونکہ یو کے میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو ہمیشہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے گراؤنڈ پر آتی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے عندیہ دیا ہے کہ جمعہ یا پیر تک پتہ چل جائے گا کہ آیا پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ میں جائے گی یا نہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اگر یہ فیصلہ بھی کرتا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کھیلے گا لیکن بھارت سے میچ نہیں کھیلے گا تو پھر آئی سی سی کی طرف سے ان پر کم جرمانے ہوسکتے ہیں مگر اس سے یہ ضرور ہوگا کہ دنیائے کرکٹ میں ایک دراڑ پڑ جائے گی۔