لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً تین کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی ہے جبکہ 10 ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش آؤٹ فال روڈ کی سیوریج لائن سے ملی۔
ڈی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق واقعے کی انکوائری کے لیے ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے حراست میں لیے گئے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو رہا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان شورکوٹ سے سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ پہلے مینارِ پاکستان اور بعد ازاں داتا دربار پہنچے جہاں خاتون اپنی بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی تھی کہ اچانک دونوں نیچے گر گئیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو 24 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ واقعے میں غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو معطل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خاتون اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا تھا جبکہ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا وہاں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ جس مقام کی نشاندہی کی گئی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں واقع ہے جہاں انتظامیہ کی جانب سے کھدائی کی گئی تھی اور واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا تھا۔
ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے تاہم ابتدائی معائنے میں انتظامیہ کا موقف تھا کہ سیوریج لائن میں کسی حادثے کے شواہد نہیں ملے۔
دوسری جانب لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے جس کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے کی جا رہی ہیں۔