قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے سینیٹ ٹو پروڈکشن کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی 11 کے وی بجلی کی تاریں تک چوری ہو چکی ہیں۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ چوری کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اسٹیل مل کے بعض اثاثہ جات کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز بند ہونے کے باوجود بجلی کا ساڑھے ستائیس کروڑ روپے سے زائد کا بل وصول ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ حکام کے مطابق اسٹیل مل کی بندش کے باوجود بجلی کے بھاری بل اور سیکیورٹی کی ناقص صورتحال سنگین تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
ذیلی کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ چوری کے مسلسل واقعات اور اثاثوں کے ضائع ہونے سے بچاؤ کے لیے بعض قیمتی اثاثہ جات کو نیلام کیا جا رہا ہے، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
اجلاس کے شرکاء نے پاکستان اسٹیل ملز کی سیکیورٹی، مالی بے ضابطگیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔