امریکی سائبرسیکیورٹی ایجنسی سیسا (CISA) کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر مدھو گوتمُکلا کے ایک متنازع اقدام نے امریکی حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ معروف امریکی جریدے پولیٹیکو نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر گوتمُکلا نے حساس سرکاری دستاویزات چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر گوتمُکلا نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال ایسے وقت میں کیا جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازمین کے لیے اس ٹول کے استعمال پر پابندی عائد تھی۔ اپ لوڈ کی گئی فائلز میں سیسا کی کنٹریکٹنگ سے متعلق دستاویزات شامل تھیں۔ اگرچہ یہ مواد خفیہ نہیں تھا، تاہم اسے حساس نوعیت کا تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگست کے مہینے میں سیسا کے سیکیورٹی سسٹمز نے ان اپ لوڈز پر متعدد بار وارننگز جاری کیں جس کے بعد ڈاکٹر گوتمُکلا کے خلاف اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ ایجنسی کے سائبر سیکیورٹی سینسرز نے ان دستاویزات کی اپ لوڈنگ کی نشاندہی کی، جس پر وزارتِ سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام نے جائزہ لینا شروع کیا کہ آیا اس اقدام سے حکومتی سیکیورٹی کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
دوسری جانب سیسا کی ترجمان مارسی مکارثی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر گوتمُکلا نے مروجہ ضوابط کے تحت ہی اس ٹول کا محدود استعمال کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایجنسی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکی قیادت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔