پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کے خلاف 22 رنز کے فتح کے بعد سوالات اٹھنا شروع ہوچکے ہیں کہ آسٹریلیا ہونے والی تین میچ کی سیریز کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
آسٹریلیا نے پہلے میچ کے لیے اپنے نامور کھلاڑی جس میں کپتان مچل مارش، آل راؤنڈر مارکس سٹائنس، جوش انگلش، فاسٹ بالرز سین ایبٹ اور بین ڈوارشیئس کو نہیں کھلایا اور میچ میں تین کھلاڑی ایسے کھیلے جو پہلی دفعہ آسٹریلیا کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل رہے تھے۔
آسٹریلیا کی ٹیم ویسے ہی پاکستان کے دورے پر اپنی ورلڈ کپ اسکواڈ سے چار بڑے کھلاڑیوں کو چھوڑ کر آئی ہے جن میں ان کے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنس، جوش ہیزل بورڈ، اور گلینڈ میکسول شامل ہیں۔
آسٹریلیا ٹیم 2022 کے بعد پہلی دفعہ پاکستان میں کوئی سیریز کھیل رہی ہے اور ایسے میں کرکٹ شائقین حیران ہیں کہ آسٹریلیا اپنے نامور کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے لیے ریسٹ کرا رہا ہے۔
ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر نے سوال اٹھایا کہ آسٹریلیا کتنی سنجیدگی سے اس سیریز کو لے رہا ہے۔ میرے خیال سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئندہ ان چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے اور کرکٹ آسٹریلیا کو واضح کرنا چاہیے کہ اگر ٹیم بھیجنی ہے تو اپنی پوری ٹیم بھیجے اور سارے اپنے اہم کھلاڑیوں کو ٹیم شامل کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جمعرات کو 2018 کے بعد پہلی دفعہ آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جیتا۔