وزارتِ خارجہ نے ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 2004 کے تحت اشیاء، ٹیکنالوجیز، مواد اور آلات سے متعلق نظرِ ثانی شدہ قومی کنٹرول لسٹس جاری کردی ہیں۔ یہ لسٹس اُن اشیاء پر لاگو ہوں گی جن کی برآمد کے لیے اسٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن (SECDIV) سے لائسنس لینا لازم ہوگا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق نظرِ ثانی شدہ کنٹرول لسٹس کو گزٹ آف پاکستان میں ایس آر او 1977(I)/2025 کے تحت 13 اکتوبر 2025 کو شائع کر دیا گیا ہے، جبکہ مکمل تفصیلات SECDIV کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
واضح رہے کہ کنٹرول لسٹس پہلی مرتبہ 2005 میں جاری کی گئی تھیں، جن میں اس سے قبل 2011، 2015، 2016، 2018 اور 2022 میں ترامیم کی جا چکی ہیں۔ تازہ ترین نظرِ ثانی کا مقصد پاکستان کے کنٹرول نظام کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم اور آسٹریلیا گروپ کے بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ رکھنا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے مشاورت کے بعد باقاعدہ جائزہ عمل کے تحت کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے ایکسپورٹ کنٹرول نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
اس نوٹیفکیشن سے پاکستان کے عدم پھیلاؤ کے عزم اور ایک ذمہ دار ٹیکنالوجی رکھنے والی ریاست کے طور پر اس کے کردار کی مزید توثیق ہوتی ہے۔