آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جو 7 فروری سے شروع ہونا ہے مگر ٹورنامنٹ کے حوالے سے روز ایک نیا تنازعہ سامنے آجاتا ہے۔
آج ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے آئی سی سی پر الزام لگایا کہ وہ دونوں اداروں کے 2024 میں دستخط ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کو ان کے ذاتی حقوق سے محروم کررہا ہے۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سی ای او ٹام موفٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے آئی سی سی کو خط لکھا ہے کہ جو معاہدے کھلاڑیوں کو بھیجے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں۔
انہوں نے کہا 2024 کے معاہدے کے تحت کھلاڑیوں کے پاس یہ حقوق ہیں کہ وہ ذاتی طور پر کسی بھی ایسی ڈیل کو مسترد کرسکتے ہیں جس میں ان کے نام، تصاویر، ویڈیوز اور ڈیٹا کو کوئی کمپنی یا اسپانسر اپنے اشتہارات یا کیمپینز میں استعمال کرنا چاہے۔
موفٹ نے کہا جو معاہدہ آئی سی سی نے بھیجا ہے اس میں کھلاڑیوں سے یہ حقوق واپس لے لیے گئے اور آئی سی سی اب کسی بھی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو کہہ سکتا ہے کسی بھی تھرڈ پارٹی کو یا آئی سی سی کے کمرشل پارٹنرز کو اپنے حقوق کے لائسنس دے دیں اور یہ معاملہ صرف آئی سی سی کھلاڑی اور اس کے ہوم بورڈ کے درمیان طے ہوگا۔
موفیٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح سے تو آئی سی سی کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی جائز کمائی پر ڈاکا ڈال رہی ہے اور ان کے ذاتی حقوق چھن رہی ہے۔ ہم نے سارے کھلاڑیوں جو ہمارے ممبرز ہیں ان سے کہہ دیا ہے کہ وہ آئی سی سی کے معاہدے پر سائن نہ کریں۔
یاد رہے کہ ورلڈ کرکٹ ایسوسی ایشن میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، نیپال، عمان اور یو اے ای کے کھلاڑی شامل نہیں ہیں۔ ایسوسی ایشن میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کے کھلاڑی شامل ہیں اور یہ ساری ٹیمیں ورلڈ کپ کا حصہ ہیں۔