سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملکی معیشت کی بہتری، نجکاری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزارتِ نجکاری کے بجٹ کے استعمال، آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ اور پی آئی اے سی ایل کی نجکاری کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا مکمل عمل 90 سے 120 دن میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
اراکینِ کمیٹی نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کیں، جس پر سیکریٹری نجکاری کمیشن نے آئندہ اجلاس میں مکمل معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ چیئرمین کمیٹی نے پی آئی اے کی کامیاب نجکاری پر وزارتِ نجکاری اور پرائیویٹائزیشن کمیشن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ سائیڈ سروسز کی آؤٹ سورسنگ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے سروس ڈیلیوری بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ بڑے اور چھوٹے ایئرپورٹس پر آؤٹ سورسنگ کا عمل یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے عمل تیز کرنے، سہولیات بہتر بنانے اور مسافروں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔