لاہور کی مقامی عدالت نے بھاٹی گیٹ مین ہول حادثے کے کیس میں ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
ضلع کچہری میں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کی عدالت میں ہوئی، جس میں پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنظلہ، سائٹ انچارج احمد نواز اور نجی کمپنی کے دو بھائی سلمان اور عثمان سمیت کل سات ملزمان پیش ہوئے۔
پولیس نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک حادثہ تھا اور ملزمان نے متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کر کے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وکیل نے چیک کی فوٹو کاپی عدالت میں پیش کی۔
واضح رہے کہ لاہور داتا دربار کے قریب ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے بعد پولیس نے متاثرہ والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور تین نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حادثے کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور 47 افسران کو برخاست کیا گیا، جبکہ گٹر کور کرنے اور ترقیاتی کاموں کے گرد لوہے کی باؤنڈری شیٹ لگا دی گئی تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
لاہور: بھاٹی چوک کیس میں انکوائری رپورٹ مکمل، غلام مرتضیٰ کی غیرقانونی حراست کا انکشاف
لاہور بھاٹی چوک میں جاں بحق خاتون کے شوہر پر تشدد کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کی انکوائری رپورٹ مکمل ہو گئی ہے، جس میں غلام مرتضیٰ کی غیرقانونی حراست اور تشدد کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایس پی اور ایس ایچ او نے بیان دیا کہ انہیں پولیس کمانڈ کی جانب سے غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ غلام مرتضیٰ پر ہلکا تشدد کیا گیا اور اسے تقریباً پانچ گھنٹے تک غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔
انکوائری ٹیم نے شورکوٹ جا کر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان اقدامات سے متعلق پولیس افسران کی ذمہ داری اور احکامات کی تفصیلات شامل ہیں۔
انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی ٹیم میں ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور شامل تھے۔