عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے حکمرانی میں صحت کا بنیادی نظام شدید زبوں حالی کا شکار ہے اور ایک کروڑ 44 لاکھ افغان شہری علاج کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں ملک کے 422 اسپتال اور کلینکس بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث تقریباً 30 لاکھ شہری علاج سے محروم ہوگئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لیڈی ڈاکٹرز کی کمی افغان خواتین کے لیے طبی سہولیات تک رسائی کو ناممکن بنا چکی ہے۔
افغانستان اب پولیو کے لیے مرکز بن چکا ہے، اور اکتوبر 2025ء تک 9 تصدیق شدہ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مزید برآں تقریباً ایک کروڑ 74 لاکھ افغان شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں صحت سمیت تمام شعبوں کی تباہ حالی کی بنیادی وجہ طالبان رجیم کی انتہاپسندانہ پالیسیاں اور حکومتی نااہلی ہے۔