پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹر عثمان خان نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ٹیم منجمنٹ کی جانب سے دیے گئے رول کے مطابق کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ رکھیں گے۔
عثمان خان کا کہنا تھا کہ تنقید کو کوئی نہیں روک سکتا اور یہ کھیل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی پلاننگ کے مطابق انہیں مختلف نمبرز پر بیٹنگ کے لیے بھیجا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابرار احمد سے متعلق سوال پر عثمان خان نے کہا کہ ان کے پاس بہت ورائٹی ہے اور انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوتا۔
عثمان خان نے عثمان طارق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے بولر ہیں، تاہم ان کے ایکشن سے متعلق فیصلہ امپائرز ہی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کے فاسٹ بولر زوئیر بارٹلیٹ نے پریس کانفرنس میں پاکستان کی شاندار کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور پلے میں پاکستان کی جارحانہ بیٹنگ کے باعث میچ آسٹریلیا کی گرفت سے نکل گیا۔
زوئیر بارٹلیٹ نے مزید کہا کہ پاکستان نے پورے میچ میں مومنٹم برقرار رکھا، جبکہ اگرچہ آسٹریلوی اسپنرز نے اچھی بولنگ کی، مگر یہ کنڈیشنز ان کے لیے نئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز سے آسٹریلیا کو ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
کیمرون گرین کے آؤٹ ہونے کے بعد اشارے سے متعلق سوال پر زوئیر بارٹلیٹ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شاداب خان سمیت پاکستان کے تمام اسپنرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کنڈیشنز میں پاکستانی اسپنرز نے شاندار بولنگ کی اور آسٹریلیا کو پاکستان ٹیم کو کریڈٹ دینا چاہیے۔
زوئیر بارٹلیٹ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کو پہلے سے علم تھا کہ سیریز میں اسپنرز کو مدد ملے گی، تاہم یہاں کی پچز آسٹریلیا سے بالکل مختلف ہیں۔