پاکستان کی ٹیم پیر کے دن آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے لاہور سے کولمبو کے لیے روانہ ہوگئی۔
ٹیم کی روانگی ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جس کے نتیجے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے، ساتھ میں ہی بالواسطہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو دھمکیاں بھی لگائی ہیں کہ اگر وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کریں گے تو دنیائے کرکٹ کے معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
آئی سی سی نے ایک بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا کوئی باہمی طور پر قابل قبول حل نکالے۔
حکومتِ پاکستان نے اتوار کے دن پی سی بی کو اجازت دے دی کہ وہ ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجے مگر واضح کردیا کہ 15 فروری کو ٹیم بھارت خلاف فیلڈ میں نہیں اترے گی۔ کرکٹ بورڈ نے اب تک اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور پی سی بی کے ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ جب حکومت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس کو آئی سی سی اپنا فیصلہ لینے کی وجہ بتانا ضروری نہیں ہے۔
پاکستان اسکواڈ ورلڈ کپ کے جس گروپ میں ہے اس میں بھارت، نیدرلینڈز، نمیبیا اور یو ایس میں شامل ہے۔
پندرہ کھلاڑیوں پر مشتمل قومی اسکواڈ میں کپتان سلمان علی آغا، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان اور عثمان طارق شامل ہیں۔
پاکستان ٹیم سری لنکا پہنچ کر آج اور کل مکمل آرام کرے گی اور 4 فروری کو آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کھیلے گی۔