ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ ایران اب بھی حالتِ جنگ میں ہے اور خطرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق محمد اسلامی نے کہا کہ ایران کو دفاعی مقاصد کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں اور ہدف حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس کافی صلاحیتیں موجود ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملے کی دھمکی کے بعد مشرقِ وسطی میں امریکی افواج کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے اور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی قیادت میں بحری بیڑے تعینات کیے گئے ہیں۔
ہم شراکت دار کے طور پر امریکا پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ بدقسمتی سے ایران نے مذاکراتی شراکت دار کے طور پر امریکا پر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے کچھ دوست ممالک اعتماد سازی اور بامعنی مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اور ایران ان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کی حالیہ تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جنگ چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے حقوق کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔